پیٹنٹ کی خلاف ورزی پر ایپل کو 234 ملین ڈالر جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ مقدمہ ایپل کے آئی فون 5 ، 6 اور 6s میں استعمال ہونے والی مائیکرو چپ کے حوالے سے کیا گیا تھا

امریکہ کی ایک عدالت نے ’پیٹنٹ‘ کی خلاف وزی کرنے پر ٹیکنولوجی کمپنی ایپل کو 23 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی رقم بطور جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایپل کے خلاف مقدمہ کرنے والی وسکانسن میڈیسن یورنیورسٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بغیر اجازت ایجادات کے استعمال کو روکنے کے لیے اہم ہے۔

اس مقدمے کو سننے والی جیوری نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ایپل نے اپنے کچھ آئی پیڈز اور آئی فونز میں بغیر اجازت پیٹنٹ مائیکرو چپ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔

ایپل نے مقدمے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ وسکانسن میڈیسن یورنیورسٹی نے 86 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہر جانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اسے صرف 23 کروڑ 40 لاکھ دینے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ جج کا موقف ہے کہ ایپل نے جان بوجھ کر پیٹنٹ کی خلاف وزی نہیں کی۔

وسکانسن میڈیسن یورنیورسٹی کی ریسریچ فانڈیشن کے سربراہ کارل گلبراینڈسن کا کہنا ہے کہ ’ اس مقدمے میں ہماری یورنیورسٹی کے محققین کی محنت اور دریافتوں کو پیٹنٹ کے ذریعے محفوظ بنانے کے عمل کی فتح ہوئی ہے۔ جیوری نے اس سلسلے میں ہماری یورنیورسٹی میں ہونے والے کام کا اعتراف کیا ہے۔‘

یہ مقدمہ ایپل کے آئی فون 5 ، 6 اور 6s میں استعمال ہونے والی مائیکرو چپ کے حوالے سے کیا گیا تھا۔

ایپل کے نئے ماڈلز جن میں 6s اور 6s پلس شامل ہیں، کے حوالے سے ایک اور مقدمہ بھی دائر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وسکانسن میڈیسن یورنیورسٹی نے اسی پیٹنٹ کی خلاف وزی پر سنہ 2008 میں انٹیل پر بھی مقدمہ کیا تھا۔

بعد میں دونوں فریقن کے مابین معاملات طے پا جانے پر مقدمہ واپس لے لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں