روسی روحانیت کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایلیکزانڈر شیپس کہتے ہیں کہ ان کی خاصیت روحوں سے رابطہ کرنا ہے

روسیوں کی ایک بڑی تعداد ’سائیککس‘ یعنی روحانی اور صوفی پیشواؤں سے رجوع کر رہی ہے۔ ایک جائزے کے مطابق روس کی آبادی کا پانچھواں حصہ اب تک ایسا کر چکا ہے۔ معاشی بحران اور یوکرین جنگ کے دوران اس رجحان کے بڑھنے کے اشارے مل رہے ہیں۔

میں اب سے پہلے کبھی کسی سائیکک کے پاس نہیں گئی۔ اسی لیے میں ماسکو کے مضافات میں واقع ایک عمارت کی لفٹ میں کھڑی مختلف جذبات محسوسں کر رہی ہوں جن میں تجسس، شک اور کچھ حد تک اضطراب شامل ہیں۔ میری ملاقات ایک مشہور سائیکک ایلیکزانڈر شیپس کے ساتھ طے ہے۔

میں سینٹ پیٹرز برگ میں پلی بڑھی ہوں جو ایک زمانے میں روس کے مشہور سائیکک راسپیوٹن کا مسکن تھا۔

تاہم شیپس داڑھی اور گول آنکھوں والے راہب راسپیوٹن جیسا قطعاً نہیں دکھتا۔ جوان اور دراز قد، ایسا جیسے میرے خیال میں کاؤنٹ ڈریکیولا کی جوانی، لیکن دھیمے لہجے والا۔ اس کی سیاہ ٹی شرٹ پر ایک کھوپڑی کی تصویر ہے۔

شیپس ’بیٹل آف دا سائیککس‘ نامی رییلٹی ٹی وی شو کا فاتح ہے جو فل وقت روس میں اپنی سولہویں سیریز نشر کر رھا ہے اور اسے اب بھی 40 لاکھ لوگ دیکھتے ہیں۔

شیپس کہتے ہیں ’میری خاصیت روحوں سے رابطہ کرنا ہے۔ میں جادو کے آرٹ کا استعمال کرتا ہیں۔ میں رسوماتی منتروں کا استعمال کرتا ہوں۔ میں گمشدہ لوگوں کو تلاش کر سکتا ہوں۔

نجی ادارے لی واڈا سینٹر کے ایک جائزے کے مطابق روس کی آبادی کا پانچھواں حصہ کسی سائیکک کے پاس جا چکا ہے۔ ایک اور تجزیاتی ادارے سریڈا کے سنہ 2013 کے ایک جائزے کے مطابق 63 فیصد افراد علمِ نجوم، قسمت کا حال جاننے یا پھر نظرِبد پر یقین رکھتے ہیں۔

شیپس کی باتوں سے پتا چلتا ہے کہ شہری مڈل کلاس لوگوں میں ان کی خدمات کی کافی مانگ ہیں۔

شیپس کہتے ہیں کہ ’اِن میں بینکر ہیں۔ بہت مشہور سیاست دان ہیں۔ بہت سے مشہور لوگ ہیں۔ ان میں (روس کے) ’آرتھروڈاکس چرچ‘ یعنی قدامت پسند کلیسا کے دو پادری بھی شامل ہیں۔ چرچ میں عبادت کرنے اور کروانے کے باوجود وہ اپنے مسائل حل کروانے کے لیے میرے پاس آتے ہیں۔‘

قدامت پسند کلیسا سائیککس اور پر اسراریت کو ملعون سمجھتا ہے تاہم پادری آنڈرے کورایو، جو گزشتہ 25 برسوں سے سائیککس کی ساکھ ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں، کا کہنا ہے کہ مذہب کے چند ماننےوالوں کا سائیککس پر یقین حیران کن نہیں۔

کورایو کہتے ہیں کہ ’آپ آرتھروڈاکس ہو سکتے اور ایک قاتل بھی۔ آپ آرتھروڈاکس ہو سکتے ہیں اور ایک چور بھی۔ کوئی بھی کسی اور کو منطقی ہونے کے لیے جبر نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں متضاد خیالات ہوتے ہیں جیسا کے آئیس کریم کے ساتھ سرسوں۔

روس میں عیسائیت کے نشانات ایک ہزار قبل تک تلاش کیے جا سکتے ہیں لیکن ملحد عقائد کبھی بھی مکمل طور پر دیہی علاقوں سے غائب نہ ہو سکے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ امر اور ملک کے وسیع مشرقی علاقوں میں شمنی مذہب کے علاوہ دوسرے غیر عیسائی عقیدوں کی موجودگی سائیککس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو وجہ بیان کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

سوویت یونین کا سخت گیر الحاد بھی عوام میں اس کی مقبولیت کو دبا نہ سکا۔

مجھے یاد ہے کہ 70 اور 80 کے دہائی میں روشن خیال روسی، جن میں سے بعض نے سائنس میں پی ایچ ڈی کر رکھ رکھی تھی، ’سائسی سوشلزم‘ کے متبادل تلاش کر رہے تھے حالانکہ اس دور میں اس طرح کےشوق آپ کو جیل یا پھر لازمی نفسیاتی علاج تک پہنچا سکتے تھے۔.

تاہم اسی دور میں سوویت حکام نے دشمن کی جوہری آبدوزوں کی شناخت یا پھر مغربی ممالک کے دارالحکومتوں کے سیفوں میں بند خفیہ دستاویزات کو ’پڑھنے‘ کے لیے خفیہ طور پر سائیککس کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔

اس کے بعد کچھ تعجب نہیں رہ جاتا کہ آج روس میں ذمہ دار عہدوں پر فائز کچھ لوگ سائیککس سے رجوع کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption راسپیوٹن

ماہرِ نفسیات دیمیتری اولشینسکی کے مطابق روسیوں میں سائیککس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ روس کا معاشی بحران ہے۔ گزشتہ دسمبر سے لے کر اب تک روسی کرنسی روبل کی قیمت گر کر آدھی رہ گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ غیر یقینی کا شکار ہیں۔ وہ سہارا تلاش کرتے ہیں۔ انہیں والدین جیسے کسی کردار کی ضرورت ہے جو انہیں بتا سکے کہ وہ اپنی زندگی کیسے گزاریں۔ اس کے علاوہ روسیوں کے پاس معلومات حاصل کرنے کا کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ بھی نہیں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ ٹی وی پر دیکھتے ہیں یا اخباروں میں پڑھتے ہیں اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسے حالات میں لوگ کسی ایسے شخص کے متلاشی ہوتے ہیں جس کے پاس کوئی خاص طاقت ہو اور جو انہیں ’سچائی‘ دکھا سکے۔

یوکرین کی لڑائی ابھی جاری ہے اور روس نے اب شام کی خانہ جنگی میں بھی مداخلت کر دی ہے ۔ روس کی معیشت کے بحال ہونے کے بھی ابھی کوئی آثار نطر نہیں آ رہے۔

لوگوں میں غیر یقینی قائم ہے اور نظر آر ہا ہے کہ ان حالات میں روس کے جدید راسپیوٹنوں کا کاروبار پھلتا پھولتا رہے گا۔