’وقت کیا ہوا ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ترکی میں یہ تبدیلی سنیچر سے ہونے والی تھی جبکہ ترکی کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے انتخابات تک وقت تبدیل نہ کیا جائے

دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح ترکی میں بھی موسم کی تبدیلی کے ساتھ گھڑی کا وقت تبدیل ہوتا ہے تاہم اس بار ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے عوام کنفیوژن کا شکار ہے۔

الجھن کا شکار ترک باشندے ان دنوں ایک دوسرے سے ’وقت کیا ہوا ہے؟‘ پوچھتے نظر آرہے ہیں۔ یہ الجھن اس وقت پیدا ہوئی جب بعض گھڑیوں نے موسمی تبدیلی کے تحت وقت میں تبدیلی کے حکومت کے تاخیر کے فیصلے کی خلاف ورزی کی۔

گرمیوں کے اختتام پر دیگر ممالک کے ساتھ ترکی کا وقت بھی ہفتے کے روز ایک گھنٹہ ’پیچھے‘ کیا جانا تھا۔ یاد رہے کہ کئی ممالک میں گرمیوں میں شام کے اوقات میں سورج کی روشنی کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جاتی ہیں۔

ترکی میں یہ تبدیلی سنیچر سے ہونے والی تھی اور بعض آٹومیٹک گھڑیوں نے اس کے تحت خود کار طور پر تبدیلی کر لی تھی جبکہ ترکی کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے انتخابات تک وقت تبدیل نہ کیا جائے۔

حکومتی فیصلے کے باوجود چند گھڑیوں میں خود بخود وقت کی تبدیلی لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بن گئی ہے۔

ترکی میں لوگوں کی جانب سے اپنی الجھن کے اظہار کے لیے سماجی رابطے کے ویب سائیٹ پر ssatkac# کا ہیش ٹیگ اس وقت مقبول ہو رہا ہے جس کے معنی ہیں ’وقت کیا ہوا ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بہت سے یورپی ممالک سورج کی روشنی کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے سال میں دو بار وقت کو آگے پیچھے کرتے ہیں

ایسٹرن یورپین ٹائم (ای ای ٹی) پر چلنے والے مشرقی یورپی ممالک بلغاریہ، لیتھونیا، یوکرین اور دیگر علاقوں کی طرح یہ امید کی جا رہی تھی کہ ترکی بھی اتوار کے روز سے ایک گھنٹے کا اضافہ کرلے گا۔

تاہم حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تبدیلیِ وقت میں تعطل سے یکم نومبر کے روز ہونے والے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے والے اضافی سورج کی روشنی سے مستفید ہوسکیں گے۔ جبکہ وقت کی تبدیلی آٹھ نومبر کو صبح چار بجے سے عمل میں آئے گی۔

اس سے پہلے بھی چند اہم موقعوں پر ترکی اپنے وقت کی تبدیلی معطل کرچکا ہے۔

دوسری جانب حکومتی فیصلے کے باوجود الیکٹرانک گھڑیوں، کمپیوٹرز اور سمارٹ فونز جیسے آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد کے لیے وقت خود بخود تبدیل ہوگیا تھا۔

ترکی کے کئی شہریوں نے اپنی پریشانی کے اظہار کے لیے سماجی رابطے کی ویب سائٹس کا سہارا لیا جبکہ چند افراد کی جانب سے اس حکم کو براہ راست پدرانہ شخصیت کے مالک ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سے نتھی کردیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک شخص نے لکھا ترکی پہلی بار ایک سوال وقت کیا ہوا ہے پر متحد نظر آ رہی ہے

ایک برطانوی تارک وطن جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے وہ فیس بُک پر لکھتے ہیں ’ترکی میں وقت نہیں بدلا ہے، جیسا کہ عموماً سال کے اس حصے میں ہوتا ہے۔

’کیونکہ انھوں نے انتخابات کے سبب وقت تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہےاس لیے ہم خاص ’اردگان وقت‘ میں ہیں۔ بدقسمتی سے وہ وقت کو تو روک سکتے ہیں لیکن آٹومیٹک گھڑیوں کو نہیں جنھوں نے حکم کے باوجود اپنا وقت تبدیل کر لیا ہے لہٰذا ہم سب ہی الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔‘

دوسری جانب ٹویٹر پر aysekarahasan@ لکھتے ہیں ’اگلے دو ہفتوں کے لیے ترکی ای ای ایس ٹی… یعنی اردگان انجینیئرڈ سٹینڈرڈ ٹائم (اردگان کے معیاری وقت) پر چل رہا ہوگا۔‘

اُدھر سمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اپنے صارفین کو بتایا گیا ہے کہ وہ ترکی کے معیاری وقت پر چلنے کے لیے اپنے فونز کی سیٹنگز میں جا کر خودبخود وقت کی تبدیلی کا آپشن بند کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں