زمین سے کھلی آنکھوں زہرہ، مشتری اور مریخ کا دلچسپ نظارہ

Image caption یہ منظر جنوبی ویلز کے روڈڈا مقام سے لیا گيا ہے جس میں نیچے مریخ ہے اوپر مشتری اور سب سے روشن زہرہ ہے

رواں ہفتے زمین کے اُفق پر زہرہ، مشتری ، اور مریخ کو ایک ہی قطار میں دیکھنے کا منفرد اور نایاب نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

سورج سے اپنے مخصوص فاصلے کے باعث زمین سے ایک ہی قطار میں نظر آنے والے دو یا دو سے زائد اجرام فلکی کے جھرمٹ کو پلانیٹری کنجنکشن کہا جاتا ہے۔ یہ جھرمٹ گذشتہ چند روز سے زمین سے واضح نظر آرہا ہے اور رواں ہفتے کے آخر تک اس کو دیکھا جا سکے گا۔

تینوں سیاروں کا بہترین نظارہ طلوع آفتاب سے قبل کیا جا سکتا ہے جبکہ جمعرات کے روز یہ ایک دوسرے سے سب سے زیادہ قریب نظر آئیں گے۔

سیاروں کا ایسا جھرمٹ سنہ 2021 میں ہی دوبارہ دیکھا جاسکے گا۔

ان سیاروں کو مشرق کی سمت میں بغیر کسی تکنیکی امداد کے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا بہترین نظارہ طلوعِ آفتاب سے قبل کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت وہ اُفق کی بلندیوں پر ہوتے ہیں جبکہ تاریکی کے باعث ان کو آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ ان کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے دستی دوربین یا ٹیلی سکوپ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان میں کون سا سیارہ کون سا ہے؟

سب سے زیادہ آسانی کے ساتھ نظر آنے والا سیارہ زہرہ (وینس) ہے جو کہ سب سے زیادہ روشن بھی ہے اور دوسرے نمبر پر مشتری ہے، جبکہ زہرہ مشتری (جوپیٹر) سے 12 گنا زیادہ روشن ہے۔

اُفق پر سب سے مدھم نظر آنے والا سیارہ مریخ ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ زہرہ، مریخ سے 250 گنا زیادہ روشن ہے۔ مریخ کا نظارہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طلوعِ آفتاب سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل آپ بستر سے اٹھ جائیں۔

ان کا نظارہ ہم کہاں کرسکتے ہیں؟

جہاں کہیں بھی آسمان صاف ہو۔ دنیا میں آپ کہیں بھی ہوں سیاروں کے اس جھرمٹ کا نظارہ آپ کو ایک سا ہی نظر آئے گا۔

Image caption یہ نظارہ سورج طلوع ہونے ایک گھنٹے قبل دنیا میں کہیں سے دیکھا جا سکتا ہے

بی بی سی کے موسم کا حال بیان کرنے والے میزبان ایلکس ڈِیکن کہتے ہیں کہ برطانیہ میں شمالی سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے شمال مغربی اور جنوب مغربی حصوں میں موسم رواں ہفتے کے اوائل میں سب سے زیادہ صاف رہے گا۔ جبکہ ویلز اور جنوب مغربی انگلینڈ میں رواں ہفتے کے اختتام پرموسم سازگار ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کے تمام ہی حصوں میں رواں ہفتے کم سے کم ایک صبح موسم بالکل صاف ہوگا۔

ان کا نظارہ کب تک کیا جا سکتا ہے؟

گرینچ کی رائل آبزرویٹری کی افیلیا ویبی سونو کے مطابق اکتوبر کی 23 اور 24 تاریخوں سے سیاروں کا یہ جھرمٹ اُفق پر دیکھا جا رہا ہے اور رواں ہفتے کے آخر تک یہ اُفق پر نظر آتے رہیں گے۔ سیاروں کو ایک دوسرے سے کم سے کم درمیانی فاصلے پر جمعرات یا جمعے کے روز دیکھا جا سکے گا۔

اگلے ماہ تک اگرچہ مشتری نظر نہیں آئے گا تاہم مریخ اور زہرہ کا نظارہ کیا جاسکے گا۔

کیا سیاروں کا یہ جھرمٹ غیر معمولی ہے؟

زمین سے دو سیاروں کو ایک ہی قطار میں دیکھنے کا نظارہ پورے سال ہی کیا جا سکتا ہے لیکن تین سیارے ایک دوسرے کے اتنے نزدیک شاذونادر ہی نظرآتے ہیں۔

ویبی سونو کہتی ہیں کہ ان سیاروں کو دوربین کی مدد کے بھی بغیر دیکھنا اس جھرمٹ کو اور بھی خاص بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس یورینس، نیپچون، اور زحل کا ایسا جھرمٹ دوربین کے بغیر دیکھنا ممکن نہیں ہے۔

سیارے ایک دوسرے کے ساتھ کیوں ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption وینس یا زہرہ کا شمار روشن ترین سیاروں میں ہے

رائل ایسٹرونومیکل سوسائیٹی کے ایسٹروفزکس کے جریدے کے نائب مدیرڈاکٹر سیم لنڈسے کا کہنا تھا کہ سیاروں کا یہ جھرمٹ اتفاقی ہے۔

سیارے سورج کے گرد اپنے اپنے مداروں میں گردش کر رہے ہیں اور ہر سیارے کو سورج کے گرد اپنا چکر مکمل کرنے کے لیے مختلف دورانیہ درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تینوں سیارے ایک ساتھ ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ زمین کے اُفق پر ایک ہی قطار میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

کیا سیارے ایک دوسرے کے بھی نزدیک ہیں؟

ایسا نہیں ہے، بلکہ سیارے ایک دوسرے سے لاکھوں میل کے فاصلے پر ہیں۔

سورج سے ان کے مخصوص فاصلے اور اس کی ان سیاروں پر پڑنے والی روشنی کے باعث وہ ایک دوسرے کے نزدیک نظر آرہے ہیں، اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم زمین سے خلا کی وسعتوں اور گہرائیوں کو نہیں ناپ سکتے۔

اسی بارے میں