زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر جعلسازی

پاکستان میں زلزلے کے بعد جب بی بی سی اردو نے اپنے قارئین سے پوچھا کہ ان کے علاقے میں کیا حالات ہیں تو ہمیں دس ہزار سے زیادہ کمنٹس موصول ہوئے جو اب تک ہمارے فیس بُک پر کمنٹس کا ایک ریکارڈ ہے۔

اقبال بشردوست نے کابل سے اپنی خیریت کی اطلاع دی تو الائی بٹگرام سے محمد زعفران نے لکھا کہ زلزلہ تو بہت شدید تھا مگر بچت ہوئی اور کامران سعید نے ساہیوال سے، خوازہ خیل سے شافی عبدالخالق، منیر رند نے کوئٹہ سے، بختیار وردک نے قلعہ سیف اللہ بلوچستان سے، فخر اعظم نے سرگودھا سے، نورپور تھل سے ارشد محمود، چمن سے عزیز مغل، سردار زبیر خان راولاکوٹ سے، درگاہ امروٹ شریف سے مظفر امروٹی، لاچی کوہاٹ سے عمران خان اور بھمبر سے ہمیں پیغامات موصول ہوئے۔

پاکستان ہی بلکہ ہمسایہ ممالک سے بھی کثیر تعداد میں کمنٹس موصول ہوئے جن میں ابوظہبی سے نور اسلم نے لکھا کہ انھیں زلزلہ محسوس ہوا جبکہ دہلی کے مشہور محلہ بلی ماراں چاندنی چوک سے شاہد مروادی نے لکھا کہ معمولی زلزلہ تھا۔

Image caption یہ تصویر افغانستان سے ایک قاری نے بھجوائی کہ یہ کابل کی عمارت ہے پاکستان سے ایک صاحب نے اسے اسلام آباد دوسرے نے پشاور کی عمارت بنا کر پیش کیا

زلزلے کے بعد حسب توقع فون لائنز جام ہو گئیں کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے جاننے والوں کو فون کر رہے تھے تو اس صورتحال میں سوشل میڈیا اور موبائل ایپس کے کارآمد ہونے کا احساس ہوا۔

سوشل میڈیا نے اس غیر یقینی کی صورتحال میں جہاں بہت مدد کی وہیں غلط افواہوں اور معلومات یا تصاویر کو پھیلانے میں کردار ادا کیا۔

فیس بُک نے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی سہولت متعارف کروائی جس میں آپ کے دوست احباب آپ کو محفوظ مارک کرتے ہیں یا آپ کو فیس بُک کی جانب سے ایک ایس ایم ایس میسیج ملتا ہے جس میں آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ محفوظ ہیں یا نہیں۔

اس کے علاوہ جب موبائل فون کام نہیں کر رہے تھے تو بہت سی معلومات وٹس ایپ اور فیس بُک کے ذریعے موصول ہونا شروع ہوئیں جو ان ہنگامی حالات میں مواصلات کے نئی جہت کی جانب اشارہ کرتی ہیں جس پر امدادی اداروں کو بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption یہ تصویر مختلف افراد نے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کی اور بھجوائی بھی مگر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ پشاور میں کس جگہ کی ہے یا کسی اور شہری کی۔

تاہم جیسے ٹی وی چینلز معلومات کے لیے بے چین بلکہ مضطرب تھے وہیں جعلی اور جھوٹ اور غلط حقائق پر مبنی تصاویر بھجوانے والوں اور دعوے کرنے والوں کی بھی دکانداری چمکی۔

بی بی سی اردو کے فیس بُک پیج پر ہنزہ کے قریب پہاڑی تودے گرنے کی تصویر درجنوں افراد نے یہ کہہ کر بھجوائی کہ یہ اُن کی تصویر ہے اور وہ اس وقت علاقے میں موجود ہیں۔

اس صورتحال میں کھرے کو کھوٹے سے جدا کیسے کیا جائے؟

اس صورتحال میں ہر تصویر یا ویڈیو جو آپ کو سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے یا اس کی وساطت سے موصول ہوتی ہے اسے زیادہ شک کی نگاہ سے دیکھیں۔

اگر ہم اس تصویر کا جائزہ لیں تو اس میں موجود گاڑی کی نمبر پلیٹ این ڈبلیو ایف پی کی ہے اور اس پر پشاور لکھا ہے جس سے تصدیق میں مدد ملتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UGC
Image caption بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک اور تصویر جسے مختلف افراد نے مختلف علاقوں کی بنا کر پیش کیا۔

اگر اس تصویر کا جائزہ لیا جائے تو ایک تو یہ فرانسیسی کارساز پرژو کی بنائی ہوئی کار ہے جو پاکستان میں بہت کم ملتی ہیں دوسرا اس پر نمبر پلیٹ فارسی میں لکھی ہوئی ہے تو اس بات کے امکانات بہت ہی کم ہیں کہ یہ پاکستان سے ہو۔

اس کا سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ آپ تصویر بھجوانے والے سے چند بنیادی سوالات کریں کہ تصویر کیا انھوں نے کھینچی، وہ کہاں پر تھے، کیا کر رہے تھے، کیا ہوا اور اہم سوال کہ کس کیمرے یا موبائل فون سے کھینچی۔

اس کے علاوہ فون نمبر حاصل کرنے کی درخواست سے علاقہ واضح ہو جائے گا اور اگر اس سے بھی تسلی نہیں ہے تو اس تصویر کو گ وگل کے امیجز کی ویب سائٹ یا ٹِن آئی ویب سائٹ پر جا کر اپ لوڈ کریں جو اس سے ملتی جلتی تصویریں آپ پر واضح کر دے گا۔

اس کے نتیجے میں اگر تو یہ گذشتہ زلزلے کی تصویر ہے یا کسی اور آفت کے بعد لی گئی تصویر ہے تو گوگل اسے شناخت کر کے بتا دے گا کہ یہ تصویر کہاں کی ہے۔

پاکستان میں مقامی نیوز چینلز میں سے کئی نے اس حوالے سے غلط اور پرانی تصاویر شائع کیں جس سے اس رجحان کو مزید تقویت ملتی ہے کیونکہ اس ایک دفعہ نشر ہونے کے بعد غلطی کی درستگی اور ازالہ نہ کرنے سے اس قسم کی جعلسازی کو شہہ ملتی ہے۔

اسی بارے میں