’گلیشیئرز میں دراڑیں پڑیں مگر ٹوٹنے کی خبریں درست نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Col NARENDRA KUMAR
Image caption پاکستان کے شمال میں واقعہ پہاڑی سلسلوں میں بعض بہت بڑے گلیشئیرز پائے جاتے ہیں جو ملک کے لیے پانی کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہیں

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ پیر کو آنے والے زلزلے سے پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں موجود بڑے گلیشیئرز کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

این ڈی ایم اے کے رکن اور ترجمان احمد کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ زلزلے کے ان گلیشیئرز پر منفی اثرات کی رپورٹس ملنے کے بعد ان کے ادارے نے محکمہ موسمیات سے اس بارے میں رپورٹ مانگی تھی۔

پاکستان میں دوگلیشیئرز پھٹ گئے

’محکمہ موسمیات نے ہمیں رپورٹ دی ہے کہ اس زلزلے کی وجہ سے گلیشیئرز کے ٹوٹنے اور ان کے اندر بنی پانی کی جھیلیں پھٹ جانے کے خطرات ہو سکتے ہیں لیکن ابھی تک اس طرح کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا گیا ہے۔‘

پاکستان کے شمال میں واقعہ پہاڑی سلسلوں میں بعض بہت بڑے گلیشیئرز پائے جاتے ہیں جو ملک کے لیے پانی کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ان گلیشیئرز کے پگھلنے اور ٹوٹ کر ان میں بہنے والے پانی سے بعض اوقات ان گلیشیئرز کے نیچے سیلابی کیفیت پیدا ہوتی رہتی ہے۔

تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کے بعد سے ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔

البتہ محکمہ موسمیات کے گلیشیئرز کے بارے میں قائم سیل کے رکن اکرم انجم نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ بعض چھوٹے گلیشیئرز میں اس زلزلے کے بعد دراڑیں دیکھی گئی ہیں لیکن ان کا کوئی حصہ نہ ٹوٹ کر گرا ہے اور نہ ہی ان سے بڑی مقدار میں پانی رسا ہے۔

ہنزہ کے قریب بنے التر گلیشیئر کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس گلیشیئر پر بھی کچھ دراڑیں دیکھی گئی ہیں لیکن اس کے ٹوٹنے یا اس سے پانی بہنے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔

محکمہ موسمیات کے سابق سربراہ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے موجودہ مشیر ڈاکٹر قمر زمان چوہدری کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات کے پاس ایسے آلات اور نظام ہے کہ اسے ان گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلوں کی اطلاع بر وقت مل جاتی ہے۔

’محکمہ موسمیات نے ان گلیشیئرز کے قریب پیشگی وارننگ جاری کرنے والے خودکار نظام نصب کر رکھے ہیں جو انھیں گلیشیئرز میں آنے والی تبدیلیوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔‘

ڈاکٹر قمر زمان نے کہا کہ زلزلے کے دوران گلیشیئرز کا اپنی جگہ سے سرکنا یا ان میں دراڑیں پڑنا معمول کی بات ہے لیکن اس زلزلے کے بعد اس نوعیت کے کسی بڑے واقعے کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں