دو دہائی میں شیروں کی تعداد آدھی رہ جائے گی: تحقیق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تقریباً تمام شیروں کی وہ نسلیں جو ماضی میں بڑھی تھیں میں اب کمی ہو رہی ہے

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ افریقہ کے جنوبی علاقوں میں جہاں شیروں کے لیے بہتر انتظامات ہیں کے علاوہ باقی افریقہ میں شیروں کی تعداد میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق غیر محفوظ علاقوں میں آئندہ دو دہائیوں میں شیروں کی تعداد آدھی رہ جائے گی۔

شیروں کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اب شیروں کو بھی وسطی اور مغربی افریقہ میں ان جانوروں فہرست میں شامل کر دیا جانا چاہیے جن کی نسل ختم ہونے کا خطرہ ہے۔

ان کی تعداد میں کمی کی بہت سی وجوہات میں شیروں کی افزائش نسل کی اصل جگہ سے دوری، شکار اور روائتی ادویات کے لیے ان کی مانگ شامل ہیں۔

انٹرنیشنل یونین فار کنرزرویشن آف نیچر کے مطابق شیر غیر محفوظ ہیں لیکن ان کی نسل معدوم ہونے کے خطرے کا درجہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ شیروں کو جنگلی حیات میں’سب سے زیادہ خطرہ درپیش ہے‘ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

Image caption ان تعداد میں کمی کی بہت سی وجوہات میں شیروں کی افزائش نسل کی اصل جگہ سے دوری، شکار اور روائتی ادویات کے لیے ان کی مانگ شامل ہیں

تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ ’شیروں کی بہت سے آبادی یا تو ختم ہو چکی ہے اور باقی کے بارے میں امکان ہے کہ آئندہ چند دہائیوں میں غائب ہو جائے گی۔‘

افریقی شیروں کی تعداد میں براعظم میں ہر جگہ کمی ہو رہی ہے سوائے بوٹسوانا، نیمیبیا، جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے، جہاں ان کی نسل اس لیے محفوظ ہے کیونکہ وہاں شیروں کے لیے ’خصوصی انتظامات، حفاظتی باڑ اور فنڈز مختص کیے گئے ہیں‘۔

تحقیق کے مطابق مغربی اور وسطی افریقہ میں آئندہ 20 سالوں میں شیروں کی آدھی تعداد ختم ہوجانے کے 67 فیصد امکانات ہیں جبکہ مشرقی افریقہ میں اسی مدت کے دوران شیروں کی آبادی کے آدھے ہو جانے کے امکانات 37 فیصد ہیں۔

اسی بارے میں