نظام شمسی کی ابتدا پرسکون انداز سے ہوئی: تحقیق

تصویر کے کاپی رائٹ ESA
Image caption اس دمدار ستارے کے آس پاس جو چار گیسیں آسانی سے دستیاب ہیں، ان میں پانی کے بخارات، کاربن مونو اوکسائیڈ اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ کے بعد فری آکسیجن ہے

خلائی جہاز روزیٹا نے حیرت انگیز طور پر پی 67 نامی دمدار ستارے کے آس پاس گیس کے بادلوں ميں آکسیجن دریافت کی ہے۔

یہ دریافت ان سائنس دانوں کے لیے حیران کن ہے جن کے خیال سے سیاروں کی تخلیق کے دوران آکسیجن دیگر عناصر سے تعامل کر کے خرچ ہو جانی چاہیے تھی۔

’دمدار ستارے کی سطح اندازے سے کہیں زیادہ سخت‘

’ہیلو زمین! کیا تم مجھے سن سکتے ہو‘

تاریک مادہ پہلے سے کم پراسرار

اس نئی دریافت کے نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نظام شمسی کے وجود میں آنے کے متعلق پائے جانے والے موجودہ نظریات غلط ہو سکتے ہیں۔

یہ نئی تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع کی گئی ہیں۔

محققین نے پی 67 دمداد ستارے کے آس پاس کے ماحول کا معائنہ کرنے کے لیے خلائی گاڑی روزیٹا میں نصب ایک خصوصی آلے روزینا کا استعمال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ESA
Image caption نئی دریافت کے نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نظام شمی کے وجود میں آنے کے متعلق پائے جانے والے موجودہ نظریات غلط بھی ہوسکتے ہیں

تحقیق کاروں کے مطابق اس دمدار ستارے کے آس پاس جو چار گیسیں آسانی سے دستیاب ہیں، ان میں پانی کے بخارات، کاربن مونو اوکسائیڈ اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ کے بعد فری آکسیجن ہے۔

اس تحقیق میں شامل بیرین یونیورسٹی کی سائنس دان پروفیسر کیتھرین الٹویگ کا کہنا ہے کہ اس میں شامل سائنسدانوں نے جب پہلی بار ڈیٹا کو دیکھا تو انھیں لگا کہ شاید یہ نتائج غلط ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’جب ہم نے پہلی بار دیکھا تو ہم نے اس سے انکار کر دیا کیونکہ کسی دمدار ستارے پر آپ اس چيز کے ملنے کی توقع ہی نہیں کرتے ہیں۔‎‘

کیونکہ آکسیجن عنصر کی شکل میں رہنے کی بجائے دوسرے عناصر کے ساتھ تیزی سے تعامل کر کے مرکبات بنا لیتی ہے۔ اس لیے محققین کا کہنا ہے کہ نظام شمسی کی ابتدا ہی میں آکسیجن بڑی جلدی جم کر مختلف مادوں کے ڈھیلوں میں پھنس کر رہ گئی ہو گي۔

پروفیسر الٹویگ کہتی ہیں: ’ہم نے یہ بہت ہی حیرت انگیز دریافت کی ہے۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ یہ (آکسیجن) وہاں کیسی پہنچی۔‘

نظامِ شمسی کی تشکیل کے موجودہ نظریات کے مطابق سیاروں اور دمدار ستاروں کے وجود میں آنے کا عمل اتنا متشدد رہا ہو گا کہ اس کے دوران جمی ہوئی آکسیجن کو پگھل کر دوسرے عناصر کے ساتھ مرکبات بنا لینے چاہیے تھے۔

لیکن اس نئی دریافت سے ایسا لگتا ہے کہ نظام شمسی کی تشکیل کا عمل خاصا پر سکون رہا ہو گا۔

تحقیق کے مرکزی مصنف مشی گن یونیورسٹی کے اینڈر بیلر کہتے ہیں: ’اگر سیارے کے بننے کی ابتدا میں ہی ہمارے پاس O2 تھی تو پھر اتنے دن تک یہ بچی کیسے رہی۔ تمام ماڈل یہی کہتے ہیں کہ اتنی مدت تک تو نہیں رہ سکتی، جس سے ہمیں نظام شمسی کی تشکیل سے متعلق یہ معلوم ہوتا ہے کہ نظامِ شمسی کی تشکیل کا عمل خاصا پرسکون رہا ہو گا کیوں کہ یہ برف کے دانے بہت آہستگی سے بنتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اب ہمارے پاس شواہد ہیں کہ اس دمدار سیارے کے اہم اجزا نظام شمسی کے بننے کے وقت بھی محفوظ رہے۔‘

پی 67 پر اترنے والے خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کو اس کی ’مدر شپ‘ روزیٹا نے گذشتہ برس نومبر میں روانہ کیا تھا۔

روزیٹا کو اس ستارے پر پہنچنے میں دس سال لگے اور یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کسی خلائی جہاز نے کسی دمدار ستارے کی سطح پر قدم رکھا۔

اسی بارے میں