حسِ مزاح میں تبدیلی دماغی خلل کی علامت ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption خلل دماغ کے مرض کی تشخیص سے قبل اس کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں جن میں عجیب و غریب حس مزاح بھی شامل ہے

برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیڑھی حس مزاح، یا حسِ مزاح کے ٹیڑھ پن میں اضافہ ڈیمنشیا یا خلل دماغ کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔

ڈیمینشیا ایسی بیماری ہے جس عام طور پر بڑھاپے میں لاحق ہوتی ہے اور اس کی عام علامات میں یادداشت کی کمزوری، شخصیت میں تبدیلی اور دماغی صلاحیت میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن نے اس مطالعے میں ایسے مریضوں کو شامل کیا جو فرنٹوٹیمپورل ڈیمینشیا میں مبتلا تھے اور اس تحقیق کے نتائج جرنل آف ایلزہائمرز ڈیزیز میں شائع ہوئے ہیں۔

تحقیق کے دوران مریضوں کے اہل خانہ اور دوستوں سے جو سوالات کیے گئے ان میں سے 48 مریضوں کے لواحقین نے بتایا کہ مرض کی تشخیص سے بہت پہلے ہی ان کی حسِ مزاح میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی تھی۔

اس میں المناک واقعات پر غیر مناسب طریقے سے ہنسنا شامل تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے اس سلسلے میں مزید مطالعے کی ضرورت ہے کہ حس مزاح میں کب اور کتنی تبدیلی آنے پر خلل دماغ کا شبہ کیا جائے۔

خیال رہے کہ خلل دماغ کی بہت سی اقسام ہیں اور فرنٹوٹیمپورل خلل دماغ شاذ و نادر کے زمرے میں آتا ہے۔

Image caption ڈاکٹر کلارک نے بتایا کہ المناک واقعات پر ہنسنا بھی اس مرض کی ایک علامت ہو سکتا ہے

اس میں دماغ کے جو حصے متاثر ہوتے ہیں وہ شخصیت اور عادات سے متعلق ہوتے ہیں اور اس کے مریضوں میں جھجھک ختم ہو جاتی ہے اور وہ زیادہ من موجی یا اضطرابی ہو جاتے ہیں اور انھیں سماجی حالات سے نمٹنے میں پریشانی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کمیلا کلارک کا کہنا ہے کہ جب ان مریضوں کے رشتے داروں سے ان کی مزاح سے متعلق دلچسپیوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ انھیں کس قسم کا مزاح پسند ہے: مسٹر بِین جیسا، یس منسٹر جیسی طنزیہ کامیڈی یا مونٹی پائتھن کی ایبسرڈسٹ کامیڈی؟

اس کے جواب میں 48 مریضوں کے رشتے داروں نے بتایا کہ مرض کی تشخیص سے تقریباً نو سال پہلے ان کی حسِ مزاح میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی تھی۔

بہت سے مریض المیہ صورت حال پر ہنسنے لگے تھے۔ ڈاکٹر کلارک نے کہا: ’یہ بہت واضح تبدیلی تھی، اور انتہائی غیر مناسب اور بےلطف۔ مثلاً ایک آدمی کی بیوی طرح جل گئی تو اس نے ہنسنا شروع کر دیا۔‘

اسی بارے میں