’2015 کا ال نینیو 50 سالوں میں شدید موسمی تغیرات میں سے ایک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ال نینیو ایک قدرتی موسمی تبدیلی ہے جو وسطی بحرالکاہل کے گرم پانیوں کے مشرق کی جانب شمالی اور جنوبی امریکہ کی طرف بڑھنے سے پیدا ہوتی ہے

موسمیات کے بین الاقوامی ادارے ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ موجودہ سال کے ختم ہونے سے قبل ال نینیو کے موسمی اثرات مزید طاقتور ہوجائیں گے۔

ڈبلیو ایم او کے تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق سنہ 2015 کا ال نینیو گذشتہ 50 سالوں میں رونما ہونے والے تین شدید موسمی تغیرات میں سے ایک ہو گا۔

دنیا کے مختلف حصوں میں شدید قحط اور تباہ کن سیلابوں کی وجوہات ال نینیو کے اثرات کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔

ڈبلیو ایم او نے خبردار کیا ہے کہ یہ اثرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اور یہ موسمی کیفیت اس وقت نامعلوم حصے میں داخل ہو چکی ہے۔

ال نینیو ایک قدرتی موسمی تبدیلی ہے جو وسطی بحرالکاہل کے گرم پانیوں کے مشرق کی جانب شمالی اور جنوبی امریکہ کی طرف بڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔

یہ تبدیلی ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتی ہے اور عموماً سال کے آخر میں شدت اختیار کر جاتی ہے، جب کہ اس کے اثرات آنے والے موسم بہار تک موجود رہتے ہیں۔

اس سال ال نینیو کے اثرات کا رحجان یہی رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایل نینو کے نتیجے میں بے وقت اور زیادہ بارش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

ڈبلیو ایم او کے مطابق شروع کے تین مہینوں میں بحرالکاہل کے گرم حصے میں پانی کی سطح کا اوسط درجہ حرارت دو ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرجائے گا۔

یہ کیفیت 1988 کے بعد سب سے شدید ہو گی اور یہ پچھلے 50 سالوں میں ریکارڈ کی جانے والی تین شدید ترین کیفیات میں سے ایک ہو گی۔

ال نینیو کے مختلف اثرات

ال نینیو کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت معمول سے بڑھ جائے گا لیکن اس کے علاقائی اثرات زیادہ تغیر پذیر ہوں گے۔

یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ال نینیو اگلے سال بھارت میں مون سون کے موسمی اثرات کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

مشرقی افریقہ میں اکتوبر سے دسمبر کے دوران زیادہ بارش کی توقع ہے۔ جنوبی افریقہ ایک طویل خشک موسم سے گزر رہا ہے جس نے وہاں جانوروں اور فصلوں کی بقا کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

کیلیفورنیا میں حکام کو خدشہ ہے کہ ریاست ال نینیو کی وجہ سے 2016 کے اوائل میں شدید بارشوں کی زد میں آ سکتی ہے۔ ریاست میں ریت کے تھیلوں اور سیلابی نالوں کی صفائی کا انتظام کر لیا گیا ہے جبکہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اضافی عملے کی تعیناتی بھی جاری ہے۔

اسی بارے میں