گوگل پر بچوں کی ذاتی معلومات استعمال کرنے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گوگل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے

ڈیجیٹل حقوق سے متعلقہ تنظیم ’الیکٹرونک فرنٹیئر فاوئنڈیشن‘ یا ای ایف ایف نے گوگل پر الزام لگایا ہے کہ اس نے سکول جانے والے بچوں کی ذاتی معلومات کو اپنے سرچ انجن کے ذریعے غلط طور پر استعمال کیا۔

ای ایف ایف نے امریکی تجارتی ادارے فیڈرل ٹریڈ کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے۔

تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے بچوں کی ذاتی معلومات کو استعمال کرنے کے اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے معلومات کو صرف اپنی مصنوعات، اور سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا نہ کہ اشتہاری مقاصد کو پورا کرنے کے لیے۔

حکام کو بھیجی جانے والی تحریری شکایت میں ای ایف ایف کا کہنا ہے کہ ’سکولوں کو کروم بکس مہیا کرنا گوگل ایپس فار ایجوکیشن پراجیکٹ کا حصہ تھا۔ اس میں کروم بک میں ایک ایسا فیچر ہے جس کے ذریعے تمام معلومات دیگر ڈیوائسز کے ساتھ جڑ جاتی ہے جو بچوں کی معلومات کو بغیر اجازت کے آگے بھیج کر دیتا ہے۔‘

اس شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان معلومات میں طلبا کی دیکھی ہوئی تمام ویب سائٹس، ویڈیوز اور استعمال کیے گئے پاس ورڈز بھی شامل ہیں۔‘

تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ گوگل نے ان معلومات کو ’اپنے ذاتی مقاصد جیسے کہ اپنی مصنوعات کی بہتری اور اشتہاری مقاصد کے لیے استمعال کیا۔‘

گوگل کا کہنا ہے کہ ’یوٹیوب اور کروم جیسے مصنوعات پر اشتہارات نہیں ہیں اور طلبا کی معلومات کو اشتہاری مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔‘

اسی بارے میں