’کامیاب معاہدے کے لیے فاقہ کشی قبول نہیں کر سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیرس میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں ایک طویل مدتی معاہدے کی کوشش کی جائے گی

پیرس میں دنیا بھر کے وزرا پیر کو ماحولیات پر نئے عالمی جامع معاہدے کے لیے آخری کوشش کریں گے۔

یہ سیاست داں سنیچر کو منظور کیے جانے والے مسودے سے ایک معاہدہ تیار کرنے کی کوشش کریں گے۔

ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس: ’معاہدے کے مسودے کا متن منظور‘

کوئلے کے منصوبوں سے عالمی حدت کا خطرہ

غریب ممالک نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امیر ممالک ماحول کو بچانے کے لیے ان کی ترقی کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ بات چیت ناکام ہو جائے گی۔

ایک مندوب نے کہا کہ پیرس کے کامیاب معاہدے کے لیے غریب فاقہ کشی قبول نہیں کر سکتے۔

خیال رہے کہ مذاکرت کاروں نے چار برس میں ایک طویل مدتی معاہدے کے لیے مسودہ تیار کیا ہے اور وزرا کو اس مسودے کو صرف پانچ دنوں میں ایسے معاہدے میں تبدیل کرنا ہے جو تمام 195 ممالک کو قبول ہو اور یہ آسان نہیں ہے۔

یہ دستاویز 48 صفحات سے زیادہ پر محیط ہے اور اس میں 900 سے زیادہ قوسین لگے ہوئے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ اتنے مقامات پر اختلاف رائے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان کئی سطح پر اختلافات پائے جاتے ہیں

بعض مندوبین کا خیال ہے کہ بہت زیادہ کام سیاست دانوں کے کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی ماحولیات کی کمشنر میگوئل ایریئس کینیٹے نے کہا: ’تمام مشکل سیاسی مسائل حل طلب رہتے ہیں اور اسے وزیروں کو حل کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’آنے والا ہفتہ مفاہمت کا ہفتہ ہے اور یہ مشکل ہفتہ ہے۔‘

ابھی اس بات پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ کیا یہ معاہدہ پوری طرح سے قانونی جواز کا حامل ہوگا یا اس کا کچھ حصہ ہی لازمی ہوگا۔

اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ معاہدہ کا طویل مدتی ہدف کیا ہونا چاہیے۔

جزائر پر مشتمل کئی ممالک کا کہنا ہے کہ اس میں یہ شامل ہونا چاہیے کہ اگر دنیا مزید ڈیڑھ سینٹی گریڈ گرم ہوتی ہے تو سطح سمندر میں اضافے کے نتیجے میں ان کے گھر ڈوب جائیں گے جبکہ دوسرے ممالک دو ڈگری تک گرمی میں اضافے کے حق میں ہیں۔

دوسرا مسئلہ تدریجی فرق کا ہے۔ سنہ 1992 میں جب اقوام متحدہ کے ماحولیاتی کنونشن پر دستخط کیے گئے تھے تو دنیا کو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درجوں میں رکھا گیا۔ اب امیر ممالک یہ چاہتے ہیں کہ پیرس سمجھوتہ تبدیل شدہ دنیا کی عکاسی کرے۔

Image caption بہت سے جزائر ممالک درجۂ حرارت میں مزید اضافے کے متحمل نہیں ہو سکتے

بہت سے ممالک چاہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہی عمل کریں لیکن تبدیلی کا نقطۂ نظر بہت سے اہم ترقی پذیر ممالک کے حق میں نہیں جاتا۔

چین نے حتمی معاہدے میں اس تقسیم میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوشش کی تنقید کی ہے۔

ملائیشیا کے گردیال سنگھ نیجار نے کہا: ’اس معاہدے کی کامیابی کی قیمت کے طور پر ہم فاقہ کشی قبول نہیں کر سکتے۔‘

ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گردیال سنگھ ہم خيال ممالک کے گروپ کے جذبات کی عکاسی کر رہے تھے جن میں چین بھارت، اور سعودی عرب بھی شامل ہے۔

ان تمام اختلافات کے باوجود وسیع پیمانے پر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ مفاہمت کی کوئی نہ کوئی صورت نکل آئے گی۔

اسی بارے میں