کھیلو کمپیوٹر گیمز، بنو نواب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ای سپورٹ کے اعلیٰ ترین کھلاڑی سالانہ دس لاکھ امریکی ڈالر سے اوپر کما سکتے ہیں

بچے جتنا وقت کمپیوٹر پر گیم کھیلنے میں صرف کرتے ہیں، والدین اُس کے بارے میں اتنا ہی فکرمند رہتے ہیں۔ لیکن کمپیوٹر کی سکرین کے سامنے گزارنے والے گھنٹوں کے لیے پیسے ملیں اور کھلاڑی اِن گیمز میں حصہ لے کر مشہور سٹار بن جائیں، تو پھر معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ اس کھیل میں بڑا وقت آگیا ہے جب 120,000 افراد مقابلے کو دیکھنے کے لیے جمع ہوں۔ یا جب ٹی وی چینل اِن مقابلوں کو پیشہ ورانہ لیگ کی طرز پر نشر کرنے کے لیے وقف ہوں۔ یا جب انعامی رقم لاکھوں ڈالروں میں ہو۔ یا شاید جب اِن بڑے مقابلوں میں میچ فکسنگ کے سکینڈل سامنے آئیں۔

ای سپورٹ کی دنیا میں خوش آمدید، جو اب کوریا کا قومی کھیل ہو سکتا ہے۔ جنوبی کوریا میں پہلے اِس بارے میں پریشانی ہوتی تھی کہ نئی نسل کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر اپنا وقت ضائع کر رہی ہے لیکن اب یہ تاثر ختم ہوتا جا رہا ہے، اور اب گیمز کے شعبے میں ترقی ہو رہی ہے اور پیشہ ورانہ طریقوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل کے علاقے کینگنم میں ویڈیو گیم ’سٹارکرافٹ‘ کے دوبارہ اجرا کی تقریب کو کسی شاندار اور رنگارنگ ہالی وڈ تقریب کی طرح منعقد کیا گیا تھا، جس میں مشہور شخصیات کے ٹی وی انٹرویوز کے لیے ریڈ کارپٹ اور حال ہی میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے ایک کھلاڑی کے لیے بھی شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔

اِن ستاروں کی غیرفعال زندگی جوش و خروش سے بھری ہوئی ہے، یہ کسی جنرل کی طرح اپنے سٹریٹجک دماغ سے حکمت عملی تیار کر کے اور اپنی بجلی کی رفتار سے تیز انگلیوں کا استعمال کر کے پیسہ بنا رہے ہیں۔

Image caption کوریا کے شاپنگ مال میں ہونے والا گیمنگ مقابلہ

اِن کھلاڑیوں میں سے ایک وان مو سانگ سے بھی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’عام طور پر میں دن میں دس سے 12 گھنٹے مشق کرتا ہوں، گیمز کھیلنے والے دیر سے بیدار ہوتے ہیں، تقریباً دس بجے صبح جس کے بعدوہ ناشتہ کرتے ہیں، صبح 11 بجے سے شام پانچ بجے تک مشق کرتے ہیں اور اُس کے بعد رات دس بجے تک مزید مشق کرتے ہیں۔ اُس کے بعد میں تھوڑی دیر وقفہ کرکے دوبارہ سے رات دو بجے تک دوبارہ مشق کرتا ہوں۔ سارا دن طویل مشق کے بعد بستر پر دراز ہو جاتا ہوں۔‘

وہ 28 سال کے ہیں اور اُن کی گرل فرینڈ بھی ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ اُن کے وقت کو سمجھتی ہیں اور اُن پر مطالبات کو بھی۔

بمبار کے نام سے مشہور ایک اور سٹار کھلاڑی جی سانگ چوئی کے اوقات کار بھی اِس سے ملتے جلتے ہیں: ’میں صبح دس بجے اُٹھ کر ناشتہ کرتا ہو اور پانچ بجے تک مشق کرتا ہوں اور اُس کے بعد رات کا کھانا، شام پانچ سے سات بجے تک میں فارغ ہوتا ہوں۔ اور اُس کے بعد آدھی رات تک مشق اور اُس کے بعد فارغ وقت، تو میں تین بجے بستر پر چلا جاتا ہوں۔‘

وہ فٹبال کے شائق ہیں اور انگلش پریمئیر لیگ کو بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ اُن کو اُمید ہے کہ سٹارکرافٹ کا مقابلہ بھی ایک دن بہت بڑا ایونٹ بن جائے گا۔ ’ای سپورٹ ایک اُبھرتا ہوا کھیل ہے۔ بعد میں جب یہ بڑا ہو جائے گا تو یہ دیگر اہم کھیلوں، فٹبال، باسکٹ بال یا بیس بال کی طرح بن جائے گا۔‘

Image caption جی سانگ چوئی اور وان مو سانگ

کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈھائی ہزار امریکی ڈالر کی انعامی رقم اور سپانسرشپ جیت سکتے ہیں، اور اپنی آمدنی کو وہاں تک لے جا سکتے ہیں جس کا اُنھوں نے کبھی خواب تک نہیں دیکھا تھا، اور نہ ہی اُن کے والدین نے جو اِس وجہ سے پریشان تھے کہ اُن کے بچے اپنے لکھنے پڑھنے کے برس ضائع کر رہے ہیں۔

جی سانگ چوئی کا کہنا ہے کہ ’جب میں کم عمر تھا اور گیمز کھیلتا تھا تو میرے والدین میرے کمپیوٹر کو مجھ سے دور کر دیتے یا اُس کو توڑ دیتے تھے لیکن اب وہ میری مدد کرتے ہیں۔ جب میں مشق کر رہا ہوتا ہوں تو مجھے ہلکا ناشتہ اور پھل دیتے ہیں۔‘

دونوں کھلاڑی 20 کی دہائی کے آخر میں ہیں اور نوجوان کھلاڑیوں کو آتا دیکھ رہے ہیں۔ سٹارکرافٹ (یا دیگر کھیلوں میں) دماغ اور اُنگلیوں کی رفتار روح کی مانند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فٹبالروں کی طرح 30 سال کے بعد عمر رسیدہ کھلاڑیوں کا پیشہ ور مستقبل ختم ہو جاتا ہے۔

نِک پلاٹ تبصرہ نگار ہیں۔ اِن کا تعلق امریکی ریاست کینسس سے ہے لیکن آج کل وہ سیؤل میں تبصرہ نگار کی حیثیت سے اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’میری نوکری کا لازمی اور بنیادی کام گیم کا تجزیہ کرنا ہے اور کچھ ایسی چیزیں بتانا ہے جو باقاعدہ ناظر کے لیے قابل استعمال ہوں، تو ہم حکمت عملی کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن کوشش کرتے ہیں کہ گیمز کی اصلاحات کو کم سے کم استعمال کرنے کی کوشش کریں اور ہم اپنے ناظرین سے تعلق قائم رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔‘

Image caption ان گیمز کو کھیلنے کے لیے کھلاڑیوں کو برق رفتاری سے حرکت کرنا پڑتی ہے

اُن کے ساتھی ڈین سٹیم کوسکی (المعروف آرٹوسِس) کا تعلق بھی امریکہ سے ہے، جو جنوبی کوریا میں کمنٹری کرتے ہیں۔ وہ وہاں اس لیے منتقل ہوگئے ہیں کہ وہاں ان کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ تاثر ختم ہو رہا ہے کہ گیمز کھیلنا وقت کا ضیاع ہے: ’میرے والدین ضرور ایسا ہی سوچتے، لیکن اب میرا خیال ہے کہ جب آپ اب دیکھتے ہیں تو یہ وہ چیز ہے جسے زیادہ قبول کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ زیادہ قابل احترام ہوتی جا رہی ہے۔ یہ زیادہ پیشہ ورانہ اور منظم ہوتی جا رہی ہے۔‘

چند برسوں کے دوران جنوبی کوریا میں گیمنگ کے بارے میں ایک پریشانی رہی ہے۔ سنہ 2011 میں حکومتی اداروں کی جانب سے نام نہاد ’شٹ ڈاؤن یعنی بند کرنے کا قانون‘ یا ’سینڈریلا قانون‘ کا اطلاق کیا تھا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں پر رات 12 سے لے کر چھ بجے تک گیم کھیلنے پر پابندی لگادی گئی تھی۔

لیکن یہ قانون اِس صنعت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکا اور سیؤل کی ای سپورٹ کی صنعت فروغ پا رہی ہے۔

یہاں ہمیشہ سے رنگ میں بھنگ ڈالنے والے موجود ہیں جو کھیلوں کو دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سنہ 1942 میں نیویارک کے میئر لاگورڈیا نے ذاتی طور پر پِن بال مشینوں پر کاری ضرب لگائی اور نیویارک میں سنہ 1976 تک اِس کھیل پر پابندی رہی۔

ای سپورٹ کے اعلیٰ ترین کھلاڑی سالانہ دس لاکھ امریکی ڈالر سے اوپر کما سکتے ہیں اور یہ کئی لحاظ سے روایتی کھلاڑیوں کی طرح ہی ہیں۔ یہ علاقائی لیگ میں حصہ لینے والی ٹیموں کی طرح مقابلے میں شریک ہوتے ہیں، حکمت عملی کا مطالعہ، تکنیک اور مخالف کے کھیلنے کے انداز کے بارے میں بھرپور تیاری کرتے ہیں۔

اسی بارے میں