بی 52 بمبار طیارہ: امریکی فضائیہ کا دادا

بیسویں صدی کے سب سے زیادہ خطرناک بمبار طیارے بی 52 کی افادیت 60 سال بعد بھی اتنی ہی ہے جتنی 1962 میں تھی، اور یہ جہاز 2044 تک امریکی فضائیہ کا حصہ رہے گا۔

آخر یہ جہاز نے سٹیلتھ طیاروں اور ڈرونز کے زمانے میں اپنی افادیت کیسے قائم رکھی ہے؟

یہ بمبار طیارہ 1960 میں تیار کیا گیا تھا۔ دو سال بعد 1962 میں ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا آخری بی 52 تیار کیا گیا اور اس نے آٹھ انجن سٹارٹ کیے اور امریکہ اور روس کے درمیان کیوبن میزائل بحران میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اڑان بھری۔

آدھی صدی کے بعد اس جہاز نے ویت نام جنگ، دو عراق اور ایک افغانستان کی جنگوں میں حصہ لیا ہے۔ لیکن اب امریکی فضائیہ کے اس پرانے طیارے پر بڑھاپے کے آثار نمودار ہونے لگے ہیں۔

لیکن اب بھی یہ بمبار طیارے امریکہ کی فضا میں اڑان بھرتے ہیں، اور جب بھی امریکہ نے کسی کو پیغام پہنچانا ہو تو بی 52 بمبار طیارے بھجوائے جاتے ہیں۔

اسی سال نومبر میں جب چین کے ساتھ بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی بڑھی تو دو بی 52 بمبار اس مقام کے قریب سے گزرے۔

کیپٹن ایرن میک کیب کا کہنا ہے کہ ’یہ امریکی فوجی قوت کی علامت ہے۔ یہ جہاز جہاں بھی جاتا ہے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔‘

کرنل کیتھ شلٹز نے بی 52 بمبار طیارہ 30 سال تک اڑایا ہے اور ان کا کہنا ہے: ’ہم جب اس جہاز پر ہتھیار لادتے ہیں تو دنیا اس کا نوٹس لیتی ہے۔ یہ جہاز میدان جنگ میں سب سے پہلے پہنچتا ہے۔ اس کا کام رکاوٹیں ہٹانا ہے تاکہ گیگر جہاز آ کر اپنا کام آسانی سے کر سکیں۔‘

رکاوٹیں ہٹانے والا یہ بمبار طیارہ 159 فٹ لمبی، اس کے پر 185 فٹ کے ہیں اور اس میں پانچ افراد سوار ہوتے ہیں۔

کرنل شلٹز کا اس طیارے کی آواز کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ آواز ’آزادی کی ہے۔‘

بی 52 طیارہ 650 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہے جبکہ عام مسافر طیارہ 35 ہزار فٹ کی بلندی تک ہی جاتا ہے۔ بی 52 بمبار پر 70 ہزار پاؤنڈ وزنی ہتھیار لادے جاتے ہیں جن میں سینکڑوں روایتی ہتھیار اور 32 جوہری کروز میزائل شامل ہیں۔

اس بمبار میں فضا میں ایندھن بھرے جانے کی صلاحیت ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ دنیا میں کسی جگہ بھی کارروائی کے لیے جا سکتا ہے۔

آپریشن ڈیزرٹ سٹورم میں حصہ لینے والے کرنل وارن وارڈ کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ یہ ایک بدشکل جہاز ہے لیکن یہ اپنا کام پورا کرتا ہے۔ دیگر جہاز بنائے گئے تاکہ بی 52 کی جگہ لی سکیں۔ بی ون بمبار آیا لیکن اس کی جگہ نہ لے سکا۔ پھر بی ٹو آیا اور وہ بھی کامیاب نہ ہوا۔‘

1950 سے اب تک بی 52 کا بیرونی حصہ تھوڑا تبدیل ہوا ہے، اور اندرونی طور پر اس جہاز میں اب کمپیوٹر اور جی پی ایس نظام نصب کر دیا گیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ اس جہاز کو صرف ایک مقصد ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہو کہ اس کام بموں کی بارش کرنا ہے۔ لیکن بعد میں اس جہاز میں تبدیلی کی گئی اور اب یہ جہاز ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے۔

جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں جدت آتی گئی اسی طرح بی 52 میں بھی جدت لائی گئی۔ اس کے اوپر والے حصے میں عملے کا ایک اہلکار ریڈار جیمر آپریٹ کرتا ہے تاکہ طیارہ شکن میّائل اور جنگی طیاروں کو چکمہ دیا جا سکے۔

کیک کیب کا کہنا ہے ’ریڈار پر یہ طیارہ جانوروں کے باڑے جتنا دکھائی دیتا ہے۔ ہم کسی سے چھپتے نہیں ہیں۔ اس لیے ہم کیا کرتے ہیں وہ اہم بات ہے۔‘

کرنل وارن وارڈ کا کہنا ہے ’یہ جہاز جتنا بڑا ہے اس لحاظ سے اس کے اندر عملے کے لیے خاص جگہ نہیں ہے۔ یہ طیارہ لوگوں کے لیے تیار نہیں بلکہ بمباری کے لیے تیار کیا گیا تھا۔‘

کرنال وارڈ نے ایک بار یہ جہاز 47.2 گھنٹے تک اڑایا تھا۔ ’ہم نے برکسڈیل سے مشرق کی جانب اڑان بھری اور دوبارہ برکسڈیل پر لینڈ کیا۔ یعنی تقریباً پوری دنیا کا سفر کیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس جہاز میں آرام کا سوچنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ اس میں صرف سیڑھی پر سیدھا کھڑا ہوا جا سکتا ہے۔

’آپ اس میں داخل ہوتے ہیں اور آپ کو گرمی کا احساس ہوتا ہے اور آپ کے پسینے چھوٹتے ہیں۔ لیکن جیسے آپ بلندی پر پہنچتے ہیں تو سخت سردی ہو جاتی ہے لیکن پسینے کی وجہ سے آپ کے کپڑے گیلے ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو مزید سردی لگتی ہے۔‘

بی 52 بمبار طیارے کی یہ صلاحیت کہ یہ دنیا بھر میں کارروائی کر سکے، جنگوں میں ایک نئی چیز ہے اور اس کا نفسیاتی اثر بہت زیادہ ہے۔

شلٹز کا کہنا ہے ’یہ ایک انوکھا تجربہ ہے کہ ہزاروں میل دور جنگ میں حصہ لیا جائے۔ 25 ہزار فٹ کی بلندی پر آپ کو جنگ کی آوازیں نہیں آئیں۔ آپ کو دو سو پاؤنڈ بم کے پھٹنے کی آواز نہیں آتی۔‘

کرنل وارڈ کا کہنا ہے ’میں اپنے گھر میں سو کر اٹھتا، ٹیک آف کرتا، دنیا کے دوسرے حصے میں جنگ میں حصہ لے کر واپس اپنے گھر میں آ کر سو جاتا۔‘

بی 52 کے انجینیئروں کے عملے کے سربراہ جیکب ڈن کا کہنا ہے ’ہمارے سارے جہاز مونث ہیں۔ یہ توہم پرستی ہے۔‘

مستقبل میں بی 52 بمبار طیارے میں جدید اسلحے کا نظام، کمیونیکیشن نظام نصب کیے جائیں گے۔ لیکن اس کے پائلٹوں اور عملے کے لیے یہ ہمیشہ BUFF یعنی ’Big Ugly Fat ...‘ ہی رہے گا۔