آئی وی ایف طریقے سے کتے کے پلّے کی پیدائش

امریکی سائنس دانوں کے مطابق کئی برسوں کی کوششوں کے بعد دنیا میں پہلی بار آئی وی ایف طریقے سے کتے کے پلّے پیدا ہوئے ہیں۔

ان ویٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) طریقہ کار میں لیبارٹری میں مصنوعی طور پر بچوں کی پیدائش کے تولیدی عمل کا آغاز کیا جاتا ہے۔ اس طریقے کو ٹیسٹ ٹیوب بے بی بھی کہا جاتا ہے۔

کورنیل یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آئی وی ایف طریقہ کار میں ہونے والی پیش رفت معدومیت کے خطرے سے دوچار نسلوں کے تحفظ کے لیے راہ ہموار کرنے اور انسانوں اور جانوروں کی بیماریوں کے خلاف جنگ میں مددگار ثابت ہو گی۔

سروگیٹ ماں (متبادل کوکھ) سے بیِگل اور بِیگل کوکر سپینیل کی دوغلی نسل کے سات بچے پیدا ہوئے ہیں۔

تمام بچے ایک ہی وقت پیدا ہوئے ہیں تاہم ان کے تین مختلف والدین ہیں۔

کتوں میں منجمد جنین داخل کرنے کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا جو کہ انسانی فرٹیلیٹی کلینکس میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ماضی میں منجمد ایمبریوز کے باعث مشکلات کا سامنا رہا ہے تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب انھوں نے اس تکنیک میں مہارت حاصل کر لی ہے۔

تحقیق کے سربراہ کورنیل کالج آف ویٹرنری میڈیسن کے ڈاکٹر ایلکس ٹریوس کہتے ہیں: ’ہمارے پاس سات صحت مند، ہنستے کھیلتے پلّے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’1970 کی دہائی سے کتوں کے ساتھ یہ تجربہ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن اس سے پہلے کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

’اور اب ہم اس تکنیک کے ذریعے معدومیت کا شکار نسلوں کی جینیات کو محفوظ کر سکیں گے۔‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آئی وی ایف ایک اہم ترین طریقہ ہے جس کے ذریعے خطرے کا شکار کتوں کی نسلوں مثلاً جنگلی افریقی کتوں کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

یہ معلومات انسانوں اور کتوں کی وراثتی بیماریوں کی تحقیق میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

کسی بھی دوسری نسل کے جانور کے مقابلے میں کتوں اور انسانوں میں دو گنا سے زیادہ ملتی جلتی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔

سائنسی جریدے پی ایل او ایس ون میں شائع ہونے والی تحقیق کو ویٹرنری میڈیسن (جانوروں سے متعلق علم طب) میں ’اہم پیش رفت‘ کہا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سکول آف ویٹرنری میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈیوڈ آرگائل کہتے ہیں کہ اس نئی تکنیک کے ذریعے وراثت میں ملنے والی بیماریوں کو سمجھنے میں کافی مدد ملے گی۔ خیال رہے کہ پروفیسر آرگائل اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’خاص طور پر یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ انسانوں اور کتوں کی حیاتیات میں کئی مشترکہ خصوصیات ہیں اور نئی تکنیک کتوں کے ساتھ انسانی بیماریوں کے بارے میں تحقیق میں بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔‘

کتے کے بچوں کی پیدائش رواں سال جون میں ہوئی تھی۔ تاہم رواں ہفتے تجربے کے نتائج کی سائنسی دنیا میں اشاعت تک ان کی پیدائش کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

اسی بارے میں