پیرس کانفرنس کے شرکا ماحولیاتی معاہدے سے’قریب تر‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

فرانس کا کہنا ہے کہ پیرس میں جاری ماحولیاتی کانفرنس کے دورانیے میں ایک دن کا اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ عالمی حدت کے معاملے پر بین الاقوامی معاہدہ طے پا سکے۔

اس کانفرنس کی صدارت کرنے والے فرانسیسی وزیرِ خارجہ لوراں فیبیوس نے جمعے کو کہا ہے کہ ’معاملات صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔‘

موسمیاتی تبدیلی کی کہانی چھ تصویروں کی زبانی

عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا مقصد ہے کیا؟

اگر پیرس میں معاہدہ طے پاتا ہے تو سنہ 2020 سے اس پر عمل درآمد ہوگا۔

ابتدائی منصوبے کے تحت COP21 نامی اس کانفرنس کو جمعے کو ختم ہونا تھا اور جمعرات کی رات مختلف وفود اختلافات دور کرنے کی غرض سے ایک مسودے پر سر جوڑ کر ساتھ بیٹھے رہے تاکہ ایک حتمی معاہدے پر پہنچا جا سکے۔

تاحال حل طلب معاملات میں ماحولیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اقوام کو زرِ تلافی دینے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

کانفرنس کے شرکاء معاہدے کے لیے فرانس کے صدر کی طرف سے پیش کیےگئے ایک مسودے پر بدھ سے ہی بات چیت کر رہے تھے۔

بدھ کے روز پیش کیا گیا مسودہ ابتدائی مسودے سے کافی مختصر تھا اور جمعرات کو جس مسودے پر وفود نے بات چیت کی وہ مزید مختصر یعنی صرف 27 صفحات پر ہی مشتمل تھا۔

Image caption جمعرات کی رات کو مختلف وفود اختلافات دور کرنے کی غرض سے ایک مسودہ پر سر جوڑ کر ساتھ بیٹھے تاکہ ایک حتمی معاہدے پر پہنچا جا سکے

بات چیت کے بعد لوراں فیبیوس کا کہنا تھا ’ہم بس اس آخری مرحلے پر ہیں جو ہمیں عالمی سطح کے، قانونی طور پر پابند کرنے والے، حوصلہ مند، درست اور ایسے دیرپا معاہدے سے جدا کرتا ہے جس کا دنیا کو انتظار ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق نئے مسودے میں مجوزہ معاہدے کے تعلق سے طویل المدتی مقاصد کو کم کر دیا گیا ہے۔

نئے مسودے میں کہا گیا ہے کہ صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں درجہ حرارت دو ڈگری سینٹی گریڈ سے کافی نیچے رکھا جائے گا اور اسے ڈیڑھ ڈگری تک محدود کرنے کی کوشش کی جائےگی۔

لیکن ماحولیات کے لیے مہم چلانے والے بہت سے لوگ اس نئے مسودے سے خوش نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’ماحول کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔‘

ایکشن ایڈ کی رکن ایڈرانو کمپیلینہ کا کہنا تھا ’امیر ممالک پر سبھی کے لیے ایک صحیح عالمی معاہدے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، صرف خود ان کے لیے ہی نہیں، اور اب جبکہ ہم بات چیت کے آخری مرحلے میں ہیں غریب ممالک کو کسی کم چیز پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماحولیات کے لیے مہم چلانے والے بہت سے لوگ نئے مسودے سے خوش نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ماحولیات کے ساتھ انصاف نہیں ہوا

لیکن بعض دیگرگروپ کو اس مسودے میں بھی بہت سی مثبت باتیں نظر آتی ہیں۔

آکسفیم کی رکن ہیلین سوزوکی کا کہنا تھا کہ مسودے میں بعض اہم اہداف مقرر کیے گے ہیں اور انھیں حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

ان کے بقول ’یہ بہت حوصلہ افزا پیش رفت ہے اور ہم تمام ممالک سے زور دے کر کہیں گے کہ انہیں حتمی معاہدے میں بھی شامل کیا جائے۔‘

ان پیش رفت کے باوجود اب بھی بہت سے ایسے اختلافی امور ہیں جن پر ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ مثلا امیر اور غریب ممالک کے درمیان کا فرق۔ کون امیر ملک ہے اور کون غریب یا اس سلسلے میں غریب ممالک کو مالی تعاون جیسے مسائل ابھی بھی مختلف فیہ امور ہیں۔

اسی بارے میں