ترکی کا ٹوئٹر پر 33 ہزار پاؤنڈ کا جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ ٹوئٹر پر اس طرح کا جرمایہ عائد کیا گیا ہے

ترکی میں حکام کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’دہشت گردوں کے پراپیگنڈے‘ کو ہٹانے میں ناکامی پر 33 ہزار برطانوی پاؤنڈ کا جرمانہ کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ٹوئٹر پر اس طرح کا جرمایہ عائد کیا گیا ہے۔

حکام کی جانب سے مذکورہ مواد کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم بی بی سی کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ اس جرمانے کا تعلق ایک سیاسی اکاؤنٹ سے ہے جو ترک حکومت کا ناقد ہے۔

ٹوئٹر نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ کے ترک حکام کے ساتھ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

ترکی میں رواں سال اپریل میں عوام کو ایک پراسیکیوٹر کو مسلح افراد کی جانب سے یرغمال بنائے جانے کی تصویر شیئر کرنے پر پابندی عائد کرنے کے ایک عدالتی حکم کے بعد ملک میں فیس بک اور ٹوئٹر دونوں کو بلاک کر دیا گیا تھا۔

جبکہ گذشتہ برس مارچ میں بھی ملک میں سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر پابندی عائد کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ مقامی انتخابات سے قبل اس وقت کے وزیر اعظم رجب طیب اردغان کی سیاسی جماعت کے بارے میں الزامات کی اس ویب سائٹ پر اشاعت کے بعد انھوں نے ‘ٹوئٹر کو ختم‘ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

اسی بارے میں