محض ایک معاہدہ یا ایک نئی تاریخ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عالمی حدت میں اضافے کو ہر صورت دو ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کا مصصم ارادہ کیا گیا

مجھے چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا زیادہ شوق نہیں ہے، لیکن یہ کہنا گنوار پن ہی ہوگا کہ پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں جن معاملات پر اتفاق ہوا ہے وہ عالمی سطح پر ایک تاریخی لمحہ نہیں ہے۔

’سی او پی 21 ‘ کے اختتام پر جاری ہونے والی دستاویز میں الفاظ کا چناؤ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے جس میں مختلف ممالک کے ترقی کرنے کے حق اور ماحول کو بچانے کی ضرورت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ معاہدہ واقعی عالمی سطح پر بڑی تبدیلیوں کا ضامن ہو سکتا ہے۔

یہ وہ دستاویز ہے جس میں پہلی مرتبہ ایک ایسے عالمی مسئلے کو حل کرنے کی حکمت عملی واضح کی گئی ہے جو خود انسانیت کا اپنا پیدا کردہ ہے۔ سائنس کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں عالمی حدت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ اس قدرتی ایندھن کا استعمال ہے جسے انسان دوبارہ خود پیدا نہیں کر سکتا۔

پیرس معاہدے میں عالمی حدت میں اضافے کو ہر صورت دو ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کا مصصم ارادہ کیا گیا ہے، بلکہ کہا گیا ہے کہ تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں کہ اسے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہی رکھا جائے۔

یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 کے دوران، صنعتی دور کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں، عالمی درجہ میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ دستاویز نہ صرف ہمیں ماحولیاتی تبدیلی کے خطرے سے آگاہ کرتی ہے بلکہ مستقبل کے اہداف حاصل کرنے کا طریقہ بھی وضع کرتی ہے۔ اگرچہ اپنی زبان کے اعتبار سے اس میں الفاظ کا ہیر پھیر پایا جاتا ہے، لیکن جب آپ 196 ممالک کو کسی بڑے منصوبے یا حمکت عملی پر رضامند کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس قسم کی لفاظی کوئی انہونی بات نہیں ہوتی۔

خاص اہمیت کا حامل فقرہ

معاہدے کے متن کا مطلب یہ ہے کہ بہترین سائنسی جائزوں کے مطابق عالمی سطح پر مضر گیسوں کی سطح ایک مرتبہ خطرناک حد تک بڑھ جائے گی لیکن اس کے فوراً بعد اس میں کمی آ جائے گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مندرجہ بالا فقرہ نہایت اہم ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ پیرس میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد ماحولیاتی تبدیلی کے بین الاقوامی پینل (انٹرنیشنل پینل آن کلائمٹ چینج) کی روشنی میں کیا جائے گا۔ آئی پی سی سی کے مطابق موجودی صدی کے آخر تک مضر گیسوں کی سطح صفر پر لایا جانا ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تمام فرقیوں کے رضامندی کے لیے اس لفاظی کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے جس کے لیے اقوام متحدہ کے ماہرین مشہور ہیں

اس معاہدے میں ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک کی ضروریات اور حقوق کے درمیان پائی جانے والی تقسیم کے مشکل معاملے پر تمام فریقوں کی رضامندی کے لیے اس لفاظی کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے جس کے لیے اقوام متحدہ کے ماہرین مشہور ہیں۔

ترقی یافتہ اور ترقی پزیر دنیا کے درمیان فرق کو مٹانے کے لیے معاہدے میں اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی ہے کہ تمام ممالک کے ہاں مضر گیسیوں کی پیمائش کے لیے ایک ہی نظام استعمال کیا جائے گا۔ اسی طرح ہر ملک کی جانب سے مضر گیسوں پر قابو پانے کے لیے جو بھی اقدامات کیے جائیں گے، ان کا اندراج بھی ایک ہی نظام کے تحت کیا جائے گا۔

لیکن یہ سارے معاملات یکطرفہ نہیں ہوں گے کیونکہ معاہدے میں ایک مرتبہ پھر زور دیا گیا ہے کہ ترقی پزیر ممالک کے پاس یہ ’لچک‘ موجود ہو گی کہ وہ اس مشترکہ نظام کا حصہ بنتے کو کب تیار ہوتے ہیں۔

اسی طرح عالمی ماحول کو اب تک پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے بھی معاہدے میں ایک الگ شق کو شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ ترقی یافتہ ممالک پر یہ پابندی نہیں لگاتا کہ وہ ماحولیاتی نقصان کی تلافی کریں، لیکن اس معاہدے کے اندر ایسی شقیں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیرس میں غریب ممالک کی جیت ہوئی ہے۔

اسی طرح مالی اعانت کے شعبے میں بھی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت غریب ممالک پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ عالمی ماحول کو بچانے کے لیے مالی وسائل مہیا کریں گے، بلکہ نئے معاہدے کے تحت یہ بوجھ امیر ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس کانفرنس کے آغاز کے ساتھ ہی پیرس سمیت دنیا بھر میں مظاہرے بھی کیے گئے

اس معاہدے کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ نئے نظام پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے وقت ماحولیاتی بچاؤ کی خواہشات کو بہت مقدم رکھا جائے گا۔ اس بات پر نطرثانی کی جائے گی کہ مخلتف ممالک نے سنہ 2019 تک کیا کچھ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اسی طرح معاہدے میں شامل تمام ممالک کو سنہ 2023 میں اس امتحان سے بھی گزرنا ہوگا کہ انھوں نے اب تک کِیا کچھ کیا ہے۔

اگرچہ دستاویز میں یہ بات شامل نہیں ہے کہ جو ممالک اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے، انھیں کس قسم کا جرمانہ کیا جائے گا، تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ تمام ممالک پر اپنا دباؤ استعمال کرتا رہے گا۔ ابھی تک اقوام متحدہ کا یہ دباؤ کام کر رہا ہے کیونکہ پیرس کانفرنس میں 187 ممالک ایسے تھے جنھوں نے اپنے ماحولیاتی تبدیلی کے قومی منصوبوں کا اندراج کر لیا ہے۔ لگتا ہے کہ کوئی بھی ملک ایسا نہیں تھا جو خالی ہاتھ پیرس پہنچ گیا ہو۔

ہو سکتا ہے کہ اس نئے معاہدے کی سب سے خاص بات اس میں طے پانے والے قوانین، اہداف یا ماحولی تبدیلی پر قابو پانے کے نظام نہ ہوں، بلکہ وہ علامات ہوں جن پر رکن ممالک نے اتفاق کیا ہے۔

پیرس کانفرنس کے حتمی اجلاس میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں سے عالمی ماحولیات کے حوالے ایک اہم پیغام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘

جہاں تک خوشیاں منانے کا تعلق ہے تو ہمیں پیرس سے یہی پیغام ملتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں دنیا کو جو مشکل کام درپیش ہے، ابھی صرف اس کا آغاز ہوا ہے۔

کانفرنس میں شریک جنوبی افریقہ کے وزیر ایڈنا مولیوا نے اپنے خطاب میں ہمیں ایک مرتبہ پھر نیلسن منڈیلا کے الفاظ یاد دلا دیے۔

’میں نے یہ راز پا لیا ہے کہ جب آپ کسی اونچی چوٹی تک پہنچ جاتے تو آپ کو معلوم ہوتا ہے اس سے آگے بہت سی اور چوٹیاں بھی ہیں۔۔۔ میں صرف کچھ وقت کے لیے آرام کر سکتا ہوں کیونکہ آزادی کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی آتی ہیں، اس لیے میں سستی بالکل نہیں دِکھا سکتا کیونکہ میرا طویل سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔‘

اسی بارے میں