پنجاب یونیورسٹی سے دو پروفیسر، ایک طالب علم گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ UNIVERSITY OF PUNJAB
Image caption پنجاب یونیورسٹی کی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سے اس کارروائی کی مذمت کی گئی ہے

لاہور میں انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ نے کالعدم تنظیموں کے ساتھ تعلقات کے شبے میں پنجاب یونیورسٹی کے دو پروفیسروں اور ایک طالب علم کو حراست میں لے لیا ہے۔

یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق چھاپہ صبح کے وقت پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس پر مارا گیا جس کی اطلاع انتظامیہ کو پہلے نہیں دی گئی تھی۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے کیمپس کے اندر ہاسٹل اور سٹاف کی رہائشی کالونی پر چھاپے مار کر ایڈمنسٹریٹو سائنسز کے پروفیسر عامر سعید، شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر عمر نواز اور لا کالج کے طالب علم وقاص کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

ان تینوں افراد کو کالعدم تنظیم سے رابطوں کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بھی سات دسمبر کو محکمہ انسداد دہشت گردی نے یونیورسٹی سے ایک اور پروفیسر غالب عطا کو بھی حراست میں لیا تھا۔ غالب عطا کا تعلق کالعدم حزب التحریر سے بتایا جاتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سے اس کارروائی کی مذمت کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے حکام کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اساتذہ کا ایک وقار ہے اگر ان سے کسی بھی قسم کی تفتیش کرنا درکار ہے تو اس کے لیے مناسب طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح کے چھاپوں سے نہ صرف اساتذہ بلکہ کیمپس میں موجود طلبہ بھی ہراساں ہوتے ہیں اور ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔

اسی بارے میں