پاکستان میں لوگر ہیڈ کچھوے کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ WWF

پاکستان کی سمندری حدود سے ایک نایاب کچھوا ’لوگر ہیڈ‘ دریافت ہوا ہے جس کے بعد یہاں پائے جانے والے کچھوں کی پانچ اقسام ہوگئی ہیں۔

ماحولیات کے بقا کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق کراچی سے 166 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں سمندر سے لوگر ہیڈ کی دریافت ہوئی ہے، جہاں سمندر کی گہرائی 2600 میٹر ہے۔

چین نے سمگل شدہ کچھوے پاکستان کے حوالے کیے

چین سے پاکستان کے کچھووں کی واپسی

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون محمد معظم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ناخواندہ ملاح حسنات نے ڈبلیو ڈبلیو ایف کو آگاہ کیا کہ اس کے جال میں ایک مختلف قسم کا کچھوا پھنس گیا تھا۔ اس نے پیمائش کرنے اور تصویر لینے کے بعد اس کو دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا۔ اس کچھوے کی ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سائنس دانوں نے لوگر ہیڈ کے طور پر شناخت کر لی ہے۔

معظم خان کے مطابق اومان کے ساحل پر کوئی دس ہزار کے قریب لوگر ہیڈ کچھوے موجود ہیں جو دنیا کی دوسری بڑی آبادی ہیں۔ پاکستان اومان سے تھوڑے فاصلے پر واقع اور یہاں اس کچھوے کا ملنا قابل حیرت انگیز بات تھی۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف سے کئی سالوں سے وابستہ معظم خان کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ 40 برسوں سے لوگر ہیڈ کچھوے کو تلاش کر رہے ہیں، انھوں نے عام لوگوں اور ماہی گیروں کو اس کی تصاویر دکھائیں لیکن انھیں کبھی لوگر ہیڈ کا پتہ نہیں چلا۔

’یہ پاکستان کے پانی سے ملا ہے اور اس قسم کے جانور کی فطرت میں ادھر ادھر بھٹکنا نہیں۔اس کا ملنا موسمی تغیر کا نتیجہ بھی نہیں بلکہ ہماری غفلت کی وجہ سے یہ پہلے نظر نہیں آیا کیونکہ ہماری تحقیق کی کھڑکی محدود ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ WWF

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق پاکستان میں اس سے قبل کچھوں کی چار اقسام پائی جاتی تھیں جن میں سبز کچھوے سب سے عام نہیں، ان کی مادہ پاکستانی ساحلوں پر بہت سے مقامات پر انڈے دینے آتی ہے بالخصوص سینڈز پٹ، ہاکس بے، طاق اوڑماڑہ، ہفت آلار جزیرہ ، گوادر اور دران شامل ہیں۔

’کچھوں کی دوسری قسم کو زیتونی کہاجاتا ہے جو سنہ 2012 سے قبل پاکستان کے ساحلوں پر کئی مقامات پر انڈے دینے آتے تھے مگر اب یہ پاکستان کے ساحلوں سے ناپید ہوگئے، مگر گہرے سمندر میں موجود ہیں۔

’اس کے علاوہ دو اقسام لیدر بیک اور ہاکس بے بل ہیں جو بلوچستان کے علاقوں گوادر اور ملان میں دریافت کی گئی ہے۔‘

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے ایک پروگرام کے تحت ماہی گیروں میں شعور اور آگاہی کا ایک پروگرام مرتب کیا، جس میں انھیں جال میں آ جانے والی نایاب مچھلیاں اور کچھوے محفوظ طریقے سے سمندر میں آزاد کرنے کی تربیت دی گئی۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق اب تک تقریباً 40 ماہی گیروں کو تربیت دی گئی اور نہ صرف یہ تربیت یافتہ ماہی گیر اپنے جالوں میں پھسنے والے کچھوں اور دیگر اہم جانوروں کو بحفاظت چھوڑ دیتے ہیں بلکہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بہت سے دیگر ماہی گیر بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا دعویٰ ہے کہ اب تک تقریباً 30 ہزار کچھوے، 17 وہیل شارک، تین کپ پگاس، دو ڈولفن اور ایک وہیل مچھلی کو رہا کیا گیا ہے اور دنیا کے کسی بھی ملک میں اتنی تعداد میں پھسے ہوئے جانوروں کو رہا نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں