امریکہ کے ڈیم کنٹرول کے نظام پر ایرانی ہیکروں کے حملے کا انکشاف

Image caption تحقیقات میں بتایا کہ امریکی پاور نیٹ ورکس بھی متواتر ’جدید ترین غیر ملکی ہیکروں‘ کے حملوں کی زد میں رہے

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی ہیکروں نے نیویارک کے قریب ایک ڈیم کو کنٹرول کرنے والے کمپیوٹر ہیک کر لیے ہیں۔

اخبار کے مطابق سنہ2013 کے حملے میں کوئی نقصان تو نہیں ہوا تھا لیکن یہ معلومات ضرور افشا ہوئیں کہ سیلاب پر قابو پانے کا نظام کمپیوٹروں کے ذریعے سے کس طرح چلایا جا رہا تھا۔

ایک دوسری رپورٹ میں امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا تھا کہ قومی ریاستوں کے لیے کام کرنے والے ہیکر باقاعدگی سے قومی بنیادی ڈھانچوں کے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ دہائیوں میں تقریباً 12 بار ہیکر اعلیٰ سطح کے پاور نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

تفصیلی منصوبہ بندیاں:

اس واقعے سے واقف ماہرین نے اخبار کو بتایا کہ ہیکروں نے نیویارک کے علاقے رائی میں موجود بومن ایونیو ڈیم کے متعلق جامع معلومات حاصل کر لی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں حملے کے امکانی ذریعے کے طور پر ایران کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور امریکی حکام کو اس ملک کی سائبر جنگ کی نمایاں صلاحیتوں کے متعلق خبردار کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیکروں کا وہی گروہ جس نے بومن ایونیو پر حملہ کیا تھا، وہ تین امریکی مالیاتی فرموں پر کیے گئے الگ الگ حملوں میں بھی ملوث تھا۔

اے پی نے وسیع پیمانے پر کی گئی تحقیقات میں بتایا کہ امریکی پاور نیٹ ورکس بھی متواتر ’جدید ترین غیر ملکی ہیکروں‘ کے حملوں کی زد میں رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ایرانی ہیکروں نے نیویارک کے علاقے رائی میں موجود بومن ایونیو ڈیم کے متعلق جامع معلومات حاصل کر لی تھیں

سکیورٹی کے حوالے سے کام کرنے والے محققین کو بہت مرتبہ اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ ہیکروں نے اِن حساس نظاموں تک رسائی میں کامیابی حاصل کی۔

اب تک کی تحقیقات سے یہی معلوم ہوا ہے کہ تمام حملوں کا مقصد تفصیلی معلومات بشمول نیٹ ورکس اور اُن کی سہولیات کے متعلق انجینیئرنگ کے نقشے جمع کرنا تھا۔

ایک وسیع پیمانے کی مہم نے ہیکروں کو امریکہ اور کینیڈا کے اطراف میں پھیلے 82 علیحدہ پلانٹس تک رسائی دی۔ جب اِن حملوں کا سُراغ لگایا گیا تو اِن کے کوڈ میں کیے تبصروں سے معلوم ہوا کہ اِن حملوں کے پیچھے ایرانیوں کا ہاتھ تھا۔

حملوں کے اس سلسلے کی معلومات کی وجہ سے ایف بی آئی (فیڈرل بیورو آف انسویسٹی گیشن) نے توانائی کی صنعت کو انتباہ جاری کیا کہ اُسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اے پی کے نامہ نگاروں گرینس برک اور جوناتھن فاہی لکھتے ہیں کہ حملہ آوروں سے جمع شدہ حقائق پاور پلانٹس کو بند کرنے کے لیے یا اُن کے کام کے طریقے کی تبدیلی کے لیے استعمال نہیں کیے گئے۔

امریکی فضائیہ کے سائبر سیکورٹی ماہر روبرٹ لی نے ایجنسی کو بتایا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات خرابی کی جانب مائل ہوتے ہیں تو یہ معلومات نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں