بلوچستان میں فائرنگ اور تشدد:’طالب اور مجاور ہلاک‘

Image caption بی ایل اے نے الزام عائد کیا ہے کہ کم عمر ساجد کی ہلاکت ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ کی وجہ سے ہوئی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں ایک مجاور اور ایک کم عمر طالبعلم ہلاک ہوگیا ہے۔

مجاور کی ہلاکت کا واقعہ ضلع لورالائی میں پیش آیا۔

لورالائی پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئٹہ روڈ پر واقع ملنگ باغ میں دو نامعلوم نقاب پوش موٹر سائیکل سوار آئے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے مزار میں شیر علی نامی ملنگ پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجاور کا تعلق سندھ کے کسی شہر سے تھا۔ تاہم بعض دیگر اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے مجاورکا تعلق خیبر پشتونخوا کے علاقے مانسہر ہ سے تھا اور اس کی عمر 35 سال سے زیادہ تھی۔

اس واقعہ کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے اور نہ ہی کسی نے تاحال اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

لورالائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق میں واقع ہے اور اس ضلع کی آبادی کی بھاری اکثریت مخلتف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔ طالبعلم کی ہلاکت کا واقعہ کوئٹہ کے جنوب مغرب میں واقع ایران سے متصل ضلع کیچ کے علاقے گومازی میں پیش آیا ۔

کیچ میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ایک طالب علم ساجد نامعلوم سمت فائر کیے جانے والے مارٹر گولے کے پھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

اس واقعہ کے حوالے سے سخت گیر موقف کی حامل جماعت بلوچستان نیشنل موومنٹ نے ایک بیان جاری کرنے کے ہلاک ہونے والے طالب علم کی لاش کی تصویر بھی جاری کی ہے ۔

مقامی میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کم عمر ساجد کی ہلاکت ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ کی وجہ سے ہوئی۔

اسی بارے میں