لائبیریا بھی پاک، دنیا سے ایبولا کے خاتمے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایبولا سے اب تک 11 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیوایچ او نے لائبیریا کو بھی ایبولا کی وبا سے پاک قرار دیا ہے۔ اس طرح دنیا میں اس خطرناک ترین وبائی مرض کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر لائبیریا میں اس مرض کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آيا تو وائرس کی ’سرگرم منتقلی کے خاتمے‘ کا اعلان 42 دنوں کے بعد کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گنی اور سیئرا لیون میں اس وبا کے خاتمے کا اعلان گذشتہ سال کر دیا گیا تھا اور اب اس میں لائبیریا بھی شامل ہو گیا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے خبرار کیا ہے کہ مغربی افریقی ممالک میں یہ وائرس پھر سامنے آ سکتا ہے۔

اس وبا میں دسمبر سنہ 2013 تک 11 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جبکہ چھ جنوری سنہ 2016 تک مرنے والوں کی تعداد 11315 تھی اور سب سے زیادہ 4809 اموات لائبیریا میں ہوئی تھیں۔

کسی ملک کو اس وقت ایک انسان کے ذریعے دوسرے انسان میں وائرس کی منتقلی سے پاک قرار دیا جاتا ہے جب 21 دنوں کی دو انکیوبیشن یا نگرانی کی میعاد بغیر کسی نئے مریض کے پوری ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گنی میں ایبولا کے آخری مریض کی صحتیابی کے بعد کی خوشی

خیال رہے کہ لائبیریا کو اس سے قبل بھی دو بار ایبولا وائرس کی سرگرم منتقلی سے پاک قرار دیا جا چکا ہے لیکن پھر نئے انفیکشن سامنے آگئے۔

بی بی سی افریقہ کے صحت کے نامہ نگار اینی سوئے کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے جمعرات کو جب ڈبلیو ايچ او لائبیریا کو ایبولا سے پاک قرار دینے کا اعلان کریں گے تو بہت محتاط ہوں گے۔

گذشتہ روز بدھ کو مسٹر بان کی مون نے خبردار کیا: ’آنے والے سالوں میں ایبولا پھر سے ابھر سکتا ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ ان کا ابھرنا وقت کے ساتھ کم ہو جائے گا۔‘

دریں اثنا ڈبلیو ایچ او کی سربراہ مارگریٹ چین نے کہا کہ ایبولا سے بچ جانے والوں میں مرض سے پوری طرح صحت یاب ہوجانے کے بعد بھی یہ وائرس رہ سکتا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مارگریٹ چین نے کہا: ’ہم امید کرتے ہیں کہ اس سال کے اختتام تک اس بیماری سے بچ جانے والوں کے جسم سے یہ وائرس ختم کر دیا جائے گا۔‘

انھوں نے آنے والے تین مہینوں کو ان تین مغربی افریقی ممالک کے لیے انتہائی نازک قرار دیا۔

اسی بارے میں