تجرباتی دوا لینے والے فرانسیسی رضاکار کا انتقال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ تجربہ بائیوٹرائل نامی ایک کمپنی نے کیا تھا جو بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے اور وہ 1989 کے بعد سے اب تک اس قسم کے ہزاروں تجربات منعقد کر چکی ہے

فرانس کے مقامی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا دماغ ایک تجرباتی دوا کے استعمال کے بعد مفلوج ہو گیا تھا، انتقال کر گیا ہے۔

وہ ان چھ لوگوں میں سے ایک تھا جس کا فرانسیسی شہر رین میں علاج کیا گیا تھا۔ ہسپتال کا کہنا ہے کہ بقیہ پانچ افراد کی حالت مستحکم ہے، البتہ ان میں سے چار کو اعصابی مسائل کا سامنا ہے جب کہ پانچواں بالکل ٹھیک ہے۔

دردکش دوا کا تجربہ، 90 میں سے ایک مریض کا دماغ مردہ

فرانس کی وزارتِ صحت نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ یہ دراصل چرس سے بنائی گئی دردکش دوا تھی۔ پیرس کے استغاثہ نے تفتیش شروع کر دی ہے۔

اس دوا کا تجربہ رین کی ایک نجی تجربہ گاہ نے شروع کیا تھا۔ 90 رضاکاروں نے یہ دوا لینا شروع کی تھی، جن میں سے دس دوسرے افراد کا معائنہ کیا گیا ہے تاہم ان میں کسی مرض کے آثار نہیں پائے گئے۔

جمعے کے روز ہسپتال کے چیف نیورولوجسٹ نے کہا کہ اس دوا کا کوئی معلوم تریاق نہیں ہے۔

ہمارے طبی نامہ نگار جیمز کیلاگر کہتے ہیں کہ اگرچہ جدید طب میں ادویات کو پہلے جانوروں پر آزمایا جاتا ہے لیکن انسان پر پہلی بار تجربات کے دوران مسائل پیش آ سکتے ہیں۔

کلینیکل ٹرائل کسی دوا کو آزمانے کا موثر طریقہ ہیں اور رضاکاروں کے بغیر خطرناک بیماریوں کے لیے نئی ادویات تیار نہیں کی جا سکتیں۔

یہ تجربہ بائیوٹرائل نامی ایک کمپنی کر رہی تھی جو بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے اور اس نے 1989 کے بعد سے اب تک اس قسم کے ہزاروں تجربات منعقد کیے ہیں۔

اسی بارے میں