سطحِ سمندر کی بلندی ناپنے کے لیے مشن روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ فیلکن 9 کا 1۔1 سریز کا آخری سیٹلائٹ ہے جو کہ مزید طاقتور ہوگا

سمندر کے بارے میں اہم معلومات جمع کرنے کی غرض سے امریکہ اور یورپ کے مشترکہ مشن کے تحت ایک مصنوعی سیارہ کیلیفورنیا سے روانہ کر دیا گیا ہے۔

جیسن تھری نامی اس سیٹیلائٹ میں سمندر کی سطح کو چار سینٹی میٹر کے حساب کی درستی کے ساتھ تک ناپنے کے آلات نصب ہیں۔

اس سیٹیلائٹ کے ذریعے سمندر کی لہروں، مد و جذر اور ہوا کی رفتار اور بلندی کا اندازہ لگایا جا سکے گا، جس سے متوقع طوفانوں کی شدت کے بارے میں پیش گوئی کرنے میں مدد ملے گی۔

اس نئے مشن سے سمندر کی بلند ہوتی سطح کی پیمائش کا کام بھی لیا جا سکے گا۔ اس پیمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے سمندروں کی سطح ہر سال تین ملی میٹر سے زیادہ کے حساب سے بلند ہو رہی ہے۔

جیسن تھری کو وینڈن برگ کے فضائی اڈے سے مقامی وقت کے مطابق دس بج کر 42 منٹ پر سپیس ایکس کمپنی کے فیلکن نائن نامی راکٹ کے ذریعے چھوڑا گیا۔ اس سیٹیلائٹ کو اپنے مدار تک پہنچنے میں محض ایک گھنٹہ لگا۔

جیسن تھری اگلے تین ماہ تک زمین سے 1336 کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتا رہے گا جہاں سے وہ اس سے قبل چھوڑے جانے والے سیٹیلائٹ جیسن ٹو کے ساتھ مل کر دہری پیمائش کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نئے مشن سے سمندر کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی پڑے گی

اس سے سائنس دانوں کو بلندی کی پیمائش کی حد متعین کرنے میں مدد ملے گی۔ اس مقصد کے لیے آلٹیمیٹر یا بلندی پیما استعمال کیے جائیں گے جن میں مائیکروویو ریڈار شامل ہیں جنھیں سمندر کی سطح پر موجود پہاڑیوں اور وادیوں کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان آلات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو مختلف طویل اور مختصر مدتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جس طرح محض ہوا کا دباؤ معلوم ہونے سے ماہرین موسمیات فضا میں ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں، اسی طرح سمندر کی اونچائی ناپنے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سمندر کی سطح سے نیچے پانی میں کیا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

اس کے علاوہ سمندر کے درجہ حرارت اور پانی میں نمک کے تناسب کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے اور اس معلومات کو کششِ ثِقل کے ساتھ جمع کرنے کے بعد سمندر کی صحیح سمت و رفتار کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے۔

سمندر زیادہ تر گرمی سورج سے حاصل کرتے ہیں، اور پھر یہ اس قوت کو حرکت میں لا کر کرۂ ارض کی فضا پر اثرات ڈالتے ہیں۔ یہ زمین کے موسموں اور آب و ہوا کے نظام کے اہم عناصر ہیں۔

مستقبل کے منصوبے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 1992 میں شروع کیاجانے والا یہ مشن ہمیشہ سے یورپ اورامریکہ کی مشترکہ کاوش رہا ہے

اس کی موجودہ مثال ال نینیو کی ہے، جس نے اس وقت پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ال نینیو کے تحت بحر الکاہل کے وسط میں مشرقی ٹھنڈے پانی کو ہر چند سال بعد مغرب کی جانب سے آنے والے گرم پانی اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر کے موسموں میں بے ضابطگی رونما ہو رہی ہے جن میں کچھ علاقوں میں قحط پڑ رہا ہے جبکہ کچھ علاقوں میں مستقل بارشیں ہو رہی ہیں۔

جیسن سٹییلائٹ دنیا میں گرمی پیدا ہونے کی بڑی وجہ سطح سمندر میں ابھار کا انداہ لگا کر ال نینیو کے پیشگی انتباہ کے نظام کے طور پر اہم کردار ادا کرے گا۔

سنہ 1992 میں شروع کیا جانے والا یہ مشن یورپ اور امریکہ کی مشترکہ کاوش ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس میں دیگر ادارے بھی شامل ہوتے رہے ہیں، اور اب امریکی اور فرانسیسی خلائی ایجنسی ناسا اور سی نیس اور بحر اوقیانوس کے دونوں جانب موسمی سیٹیلائٹ نو آ اور یومیٹ سیٹ بھی اس مشن میں شامل ہیں۔

جیسن کے مستقبل کے مشن میں مزید اداروں کی شمولیت کو وسعت دی جا ئے گی، جس میں یورپی خلائی ایجنسی (ایسا) اور یورپی کمیشن بھی شامل ہیں۔

اس مشن میں بڑے پیمانے پر دلچسپی سیٹیلائٹ سے حاصل کیے جانے والے اعداد و شمار کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، اور مختلف اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری سے اس مشن کے آگے بڑھنے کا یقین دلاتی ہے۔

یورپ جیسن مشن کو زمین کا مطالعہ کرنے والے پروگرام سینٹینل کا حصہ بنائے گا، جس میں ایک خلائی جہازسینٹینل 6 کی روانگی بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں