کینیا میں ’قدیم ترین‘ انسانی قتلِ عام کی دریافت

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں شمالی کینیا میں انسانوں کے درمیان قدیم ترین جنگ کے شواہد ملے ہیں۔

ماہرین کے مطابق انھیں کینیا کے شمال میں واقع ترکانا جھیل کے قریب دس ہزار سال قبل ہونے والی ایک جنگ میں 27 افراد کی باقیات ملی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی موت تشدد کی وجہ سے ہوئی۔

45 سال بعد لاپتہ کوہ پیماؤں کی باقیات مل گئیں

9/11 کے ہلاک شدگان کی باقیات گراؤنڈ زیرو پہنچا دی گئیں

ماہرین کے مطابق انھیں دفن کرنے کی بجائے مرنے کے لیے کھلے عام چھوڑ دیا گیا تھا۔

متعدد ماہرین نے دلیل دی ہے کہ اس قسم کی جنگیں صرف اسی وقت ہی ممکن ہو سکیں جب انسانوں نے بستیاں بسانا شروع کر دیں۔ تاہم اس کے برعکس یہ لوگ بظاہر خانہ بدوشوں کی طرح رہا کرتے تھے۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین سنہ 2012 سے کینیا میں کام کر رہے تھے۔ انھیں پتہ چلا کہ متاثرہ افراد کو ڈنڈوں سے مار کر گھونپ کر ہلاک کیا گیا۔

ہلاک ہونے والے افراد میں مرد، عورتوں اور بچے شامل تھے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ فولی کا کہنا ہے کہ جریدے نیچر میں چھپنے والی تحقیق میں اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ جنگ کی اصل وجہ کیا تھی تاہم متعدد افراد کا ایک ہی وقت میں ہلاک ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ’یہ ہلاکتیں کسی جنگ کا نتیجہ ہیں۔‘

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان افراد کو مخالف مسلح شکاریوں نے لکڑیوں اور تیروں سے ہلاک کیا جن کے سروں پر تیز دھار پتھر لگے ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں انسانوں نے دھاتیں دریافت نہیں کی تھیں۔

کینیا کی نتاروک جھیل پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ مارٹا میرازون لہر کا کہنا ہے: ’یہ قتلِ عام وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں