بہرے افراد کے لیے سوشل میڈیا پر اشاروں کی زبان

پہلے اشاروں کی زبان استعمال کرنے والے افراد کو بات کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے مقامی بہروں (یعنی سماعت سے محروم افراد) کے کلب جانا پڑتا تھا۔

سماعت سے محروم صحافی چارلی سوئن بورن کا کہنا ہے کہ اب سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرنے کے باعث حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔

ایک وقت تھا جب اشاروں کی زبان میں بات کرنے والے افراد کو کھلی فضا میں سانس لینے، مشورے کے تبادلے یا کسی بھی قسم کی گفتگو کے لیے مقامی کلب جانا پڑتا تھا۔ یہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ آپ کو کسی سے گفتگو کرنے کے لیے صرف فون اُٹھانا پڑے۔ سماعت سے محروم افراد کے کلب حقیقی برادری کے مانند ہوتے تھے، جہاں سارے دوست، خاندان والے، بورڈ گیمز اور شراب مہیا کرنے والے افراد بھی ہوتے تھے۔

حالیہ چند سالوں میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں نے سماعت سے محروم افراد کے کلبوں کی جگہ لے لی ہے، اور فیس بک اِس میں سر فہرست ہے۔ نیوز فیڈ صفحات پر شائع ویڈیوز کو طویل مدت تک دیکھا جا سکتا ہے، یہاں گروپ بنانا اور اُس میں شمولیت اختیار کرنا نہایت آسان ہے۔

گذشتہ سال اشاروں کی زبان میں بات کرنے والے افراد کے لیے فیس بک کی اہمیت کو اعلیٰ سطح پر اُس وقت تسلیم کیا گیا جب سکاٹ لینڈ کی پارلیمان نے اِس سائٹ پر ایک گروپ بنایا تاکہ برطانوی اشاروں کی زبان (سکاٹ لینڈ) بل کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ یہ بل ستمبر میں منظور کر لیا گیا، اِس کا مقصد اِس زبان کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY IUMAGES

جب پہلے پہل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ نے مقبولیت حاصل کی تو اُس وقت اشاروں کی زبان استعمال کرنے والوں کے لیے اس میں نیا پن یہ تھا کہ وہ اُسی طرح سے سامنے آتے جیسے عام افراد یعنی ٹیکسٹ میسج کے ذریعے سے۔

لیکن یہ صحیح نہیں تھا، کیونکہ اِن ویب سائٹوں پر پیغام شائع کرنے کے لیے انگریزی میں تحریر لکھنا پڑتی تھی۔ لیکن برطانوی اشاروں کی زبان (بی ایس ایل) میں ہاتھ کے اشاروں، چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کے ذریعے سے بات کی جاتی ہے۔ اِس کی گرامر اور ساخت دونوں مختلف ہیں۔ سماعت کے بغیر زبان سمجھنے کی مشکلات کے باعث کئی بی ایس ایل بولنے والوں کو انگریزی دوسری زبان لگتی ہے اور اکثر کی انگریزی میں روانی بھی نہیں ہوتی۔

اسی لیے جب بہترین کیمروں والے موبائل اور ٹیبلیٹ آئے تو اشاروں کی زبان میں بات کرنے والے افراد نے اپنے پیغامات تحریر کے بجائے ویڈیو کی صورت میں بھیجے، جس میں وہ اشارے کرتے دکھائی دینے لگے۔

ویڈیو کے ذریعے سے رابطوں میں کچھ مزاحیہ چیزیں بھی سامنے آئی، جیسا کہ چند ویڈیوز میں لوگوں نے اشاروں میں اپنا نام بتانے کے بجائے صرف یہ اشارہ کیا ہے کہ ’میرا نام۔۔۔۔‘ اور اُس کے بعد اُنھوں نے فضا میں اپنے سر کے پاس تھوڑا اوپر کی جانب اشارہ کیا، جہاں ویڈیو میں تحریر کی صورت میں اُن کا نام سامنے آیا۔

اشاروں کی زبان میں گفتگو کرنے والے افراد کو فیس بک پر مکمل طور پر اپنا حصہ بنانے میں مشکلات پیش آتی تھیں کیونکہ انگریزی اُن کی پہلی زبان نہیں تھی۔ لیکن اب یہاں سماعت سے محروم افراد کے لیے ہر طرح کے گروپ موجود ہیں، جیسے کہ ’ڈیف اوپینیئن‘ یعنی سماعت سح محروم افراد کے خیالات کاگروپ، جس کے اراکین کی تعداد سات ہزار ہے۔

’ڈیف لینڈ یو کے‘ نامی ایک اور گروپ کی جانب سے اپنے اراکین کو ہر ہفتے تفریحی چیلنج دیے جاتے ہیں، جس میں اُن کھیلوں کی نقل کی جاتی ہے جیسے سماعت سے محروم افراد کے کلب میں کھیلے جاتے تھے۔

کئی افراد کا خیال ہے کہ گروپ میں آن لائن گفتگو کے کئی سماجی فائدے ہیں۔ سماعت سے محروم مزاحیہ فنکار جان سمتھ کا کہنا ہے: ’سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں سے قبل سماعت سے محروم بہت سے افراد تنہا تھے۔ فیس بک وہ جگہ ہے جہاں ہم روز مرہ کی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں دل کا غبار نکال سکتے ہیں۔‘

اشاروں کی زبان والے گروپ اپنے رابطوں یا گفتگو کے انداز کے باعث سماعت سے محروم افراد کے کلبوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

سماعت سے محروم افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بصارت پر مبنی زبان کی نوعیت کی وجہ سے زیادہ براہ راست ہوتے ہیں۔ اشاروں کی زبان میں سیاسی گروپ چلانے والے جین ڈوڈس کا کہنا ہے کہ ’سماعت سے محروم افراد سماعت والے افراد سے زیادہ بے تکلف ہوتے ہیں۔‘

آن لائن جگہ فراہم کرنے کے اِس تحریک سے مراد سماعت سے محروم افراد کی تنظیم جیسے کے برطانوی ڈیف ایسوسی ایشن (بی ڈے اے) کو اپنانے کے لیے ہے۔ اِس ادارے کے مہم اور مواصلات کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بکسٹن کا کہنا ہے: ’بی ڈی اے فیس بک پر شائع کرنے کے لیے بی ایس ایل میں بڑی تعداد میں ویڈیو جاری کر رہی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ سماعت سے محروم افراد کو تحریری بیانات یا کہانیوں پر انحصار کرنا نہیں پڑے گا، جس میں کئی بار اُنھیں مشکلات پیش آتی ہیں۔‘

لیکن فیس بک اُتنی اچھی نہیں ہے جتنا کے سماعت سے محروم افراد کے لیے ہو سکتی تھی۔ جب ایک بار ویڈیو کی صورت میں پیغام شائع ہوگیا تو ’جواب‘ پر کلک کرنے کے بعد آپ کو تبصرہ کرنے کے لیے انگریزی تحریر کرنا ہو گی۔

ایک اور تشویش یہ بھی ہے کہ فیس بک کی مقبولیت کے باعث سماعت سے محروم افراد کے زیادہ کلب بند ہو سکتے ہیں، اور لوگوں کے لیے اِس بات کے مواقع کم ہوں گے وہ بالمشافہ ملاقات کر کے ایک دوسرے سے براہِ راست اشاروں میں بات کریں۔

تاہم بکسٹن کا کہنا ہے: ’فیس بک نے سماعت سے محروم افراد کو باہر آنے اور بات کے اظہار کرنے کا اعتماد دیا ہے، جو کہ شاید اُن کے پاس پہلے نہیں تھا کیونکہ اُن کے یہ کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ اعتماد اپنے خیالات کو اپنی زبان (بی ایس ایل) میں بیان کرنے سے ہی آتا ہے۔‘

اسی بارے میں