زکا وائرس تمام امریکی ممالک میں پھیل سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً تمام امریکی ممالک میں ذکا وائرس کے پھیلنے کا امکان ہے۔

یہ انفیکشن اب تک کیریبیئن، شمالی اور جنوبی امریکہ کے 21 ممالک میں پایا گیا ہے جس کے علامات میں بخار، آشوب چشم کی بیماری اور سر درد شامل ہیں۔

برازیل میں زکا وائرس سے چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش

اس وائرس کے باعث ہزاروں بچوں میں سنگین پیدائشی نقائص ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر کچھ ممالک نے خواتین کو حاملہ ہونےسے خبردار کیا ہے۔

اب تک اس وائرس کا کوئی علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے۔

ذکا وائرس افریقہ سے شروع ہوا تھا اور اس کے پھیلنے کی خبر پہلی مرتبہ مئی سنہ 2015 میں برازیل سے آئی تھی۔

خیال ہے کہ یہ بیماری جنوبی امریکہ کے ممالک میں اس لیے اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کیونکہ وہاں پر قوت مدافات میں قدرتی کمی ہے۔

کولمبیا، ایکواڈور، ایل سلوا ڈور اور جمیکا کے حکام نے خواتین سے کہا ہے کہ وہ ذکا وائرس کے بارے میں مزید تفصیلات کے سامنے آنے تک حمل ٹھہرانے سے گریز کریں۔

یہ بیماری برازیل میں پھیلی ہوئی ہے۔ برازیل میں چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کا سلسلہ جاری ہے اور اکتوبر سے اب تک اس بیماری سے متاثرہ چار ہزار بچے پیدا ہو چکے ہیں۔

اسی اثنا میں امریکہ کے محکمۂ صحت کے حکام نے حاملہ خواتین کو امریکہ اور اس سے باہر کم سے کم 20 ممالک کا سفر کرنے سے منع کیا ہے جہاں اس بیماری کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

اس بیماری کی علامات سنگین نہیں ہیں یہ بظاہر عام مزلہ زکام کی طرح لگتا ہے۔

کولمبیا میں وزیرِ صحت نے خواتین کو کم سے کم آٹھ ماہ تک حاملہ ہونےسے منع کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ یہ اس خطرے سے بچنے کا اچھا طریقہ ہے۔ اس کے نتائج بہت سنگین ہیں۔‘

یہ بیماری سنہ 1940 میں پہلی بار افریقہ میں سامنے آئی تھی اور اب یہ لاطینی امریکہ میں پھیل رہی ہے۔

برازیل میں اس بیماری سے متاثرہ کم سے کم 49 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ کولیمبیا میں بیماری سے متاثرہ بچوں کے 13,500 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

زِکا نامی یہ وائرس ايڈيز جیپٹی مچھر (ايک مَچھَر جِس سے زرد بُخار ہو جاتا ہے) کے کاٹنے سے جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ اس مچھر کی وجہ سے ڈینگی بخار اور چکنگنیا (گرم ملکوں میں مچھر کے ذریعے پھیلنے والی ایک بیماری ) نامی بیماری بھی پھیلتی ہے۔

گذشتہ ہفتے برازیل کے وزیرِ صحت مارسیلو کیسٹرو نے بتایا کہ تینوں میں سے کسی وائرس کی موجودگی کی شناخت کے لیے جانچ کی ایک نئی کِٹ بنائی گئی ہے۔

انھوں نے ’مختصر مدت کے دوران‘ زِکا وائرس کی ویکسین کے حوالے سے ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اضافی فنڈز کا بھی اعلان کیا۔

اس وقت زِکا وائرس سے نمٹنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ جہاں مچھروں کی نسلوں کی افزائش ہوتی ہے اُس ٹھہرے ہوئے پانی کو ہٹایا جائے۔

لاطینی امریکہ میں زکا وائرس

کولمبیا کے وزیرِ صحت الیہنڈرو گویریا کے مطابق ’برازیل کے بعد (لاطینی امریکہ میں) ہمارا ملک دوسرے نمبر پر ہے جہاں زِکا وائرس کے سب سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں۔‘

بولیویا میں حکام نے زِکا وائرس سے متاثرہ حاملہ خاتون کا پہلا کیس رپورٹ کیا ہے۔

سانتا کروز کے مشرقی شعبے کی ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر جواکین مانیسٹیریو نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’اس خاتون نے ملک سے باہر سفر نہیں کیا۔ یہ ملک کے اندر ہی پیدا ہونے والا کیس ہے۔‘

بیماریوں کی روک تھام اور اُن کے کنٹرول کے امریکی مراکز نے گذشتہ جمعے حاملہ خاتون کو انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ زِکا وائرس سے متاثرہ برازیل اور دیگر لاطینی اور غرب الہند کے ممالک کے سفر سے گریز کریں۔

یہ سفری پابندیاں برازیل، کولمبیا، السلواڈور، فرانسیسی گیانا، گوئٹے مالا، ہیٹی، ہونڈوراس، مارٹنیک، میکسیکو، پناما، پیراگوئے، سورینام، وینزویلا اور پورٹو ریکو کے سفر پر لاگو ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں