آئی فونز پہلی بار توقع سے کم فروخت ہوئے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایپل کی آمدن کا 68 فیصد حصہ آئی فونز کی فروخت سے آتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ایپل کے مطابق 2007 میں متعارف کرائے جانے کے بعد پہلی بار آئی فونز توقع سے کم فروخت ہوئے ہیں۔

ایپل نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس آئی فون کی فروخت میں کمی آئے گی۔

کیا آئی فون زوال کا شکار ہے؟

ایپل کے مطابق آئی فونز کی فروخت رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں سات کروڑ 48 لاکھ رہی ہے جبکہ گذشتہ برس اسی سہ ماہی میں یہ تعداد سات کروڑ 45 لاکھ رہی۔

ماہرین کا اندازہ تھا کہ آئی فونز کی فروخت ساڑھے سات کروڑ ہو گی تاہم پھر بھی کمپنی کے لیے یہ ریکارڈ سہ ماہی ہے۔

کمپنی کا آئندہ سہ ماہی تک محصولات 50 ارب ڈالر تک رہیں گے اور یہ 58 ارب ڈالر کے اندازے سے کم ہے۔

اپیل کے اس سہ ماہی میں محصولات 75.9 ارب ڈالر رہے جس میں خالص منافع 18.4 ارب ڈالر تھا اور اب تک کا سب سے زیادہ منافع ہے۔

ایپل کی آمدن کا 68 فیصد حصہ آئی فونز کی فروخت سے آتا ہے۔

ایپل کے مالیاتی امور کے سربراہ لوکا مائستری کے مطابق اس وقت کمپنی مشکل کاروباری حالات میں کام کر رہی ہے۔

’سہ ماہی میں آئی فونز کی فروخت میں کمی آئے گی اور کمپنی ان تین ماہ سے آگے کی پیشنگوئی نہیں کر رہی ہے۔‘

اگرچہ آئی فونز کی چین، ہانگ کانگ، تائیوان میں فروخت میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن یہ گذشتہ برس فروخت میں ہونے والے 70 فیصد اضافے سے کہیں کم ہے۔

لوکا مائستری نے چین میں ہونے والے اضافے میں کمی کے بارے میں کہا:’یہ چیز ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘

آئی فونز کی ایک چوتھائی فروخت چین میں ہوتی ہے اور یہ تعداد پورے یورپ میں ہونے والی فروخت سے زیادہ ہے۔

ایپل کے اعلان کے بعد حصص بازار میں اس کی شیئرز میں 1.8 فیصد کمی آئی ہے اور ایک حصص کی قیمت 98.20 ڈالر ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں