فیس بک اور انسٹاگرام پر پستول کے اشتہاروں پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک گروپ کا کہنا ہے کہ فیس بک پر خریدی گئی پستول جرائم میں استعمال ہوئی ہیں

فیس بک اور فوٹو شئیرنگ ویب سائٹ انسٹاگرام پر اب انفرادی طور پر پستول یا کسی بھی گن کی تشہیر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پہلے ہی بغیر شناخت کے پستول کی فروخت پر پابندی عائد کر چکی ہے لیکن نئے قواعد کا مقصد ویب سائٹ پر افراد کے درمیان پستول یا کسی بھی گن کی تجارت کو روکنا ہے۔

تاہم کاروبار کرنے والے فیس بک اور انسٹا گرام پر پستول کے اشتہار دے سکتے ہیں۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تین ہفتے قبل امریکی صدر براک اوباما نے پستول خریدنے پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

صدر باراک اوباما کے ان انتظامی اقدامات میں پستول وغیرہ فروخت کرنے والوں کے بارے میں معلومات اور ریاست کی جانب سے ان لوگوں کی معلومات جنھیں ذہنی طور پر بیمار ہونے یا مقامی فسادات کی وجہ سے پستول خریدنے کی اجازت نہیں کی جانج پڑتال کرنا شامل ہے۔

ان قوانین میں تبدیلی کے بعد پستول کی فروخت فیس بک کے غیر قانونی ادوایات کی فروخت پر پابندی کے زمرے میں آگئی ہے۔

ایوری ٹاؤن فار گن سیفٹی کیمپین گروپ کے شینن واٹس نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’فیس بک بدقسمتی سے اور نادانِستہ طور پر خطرناک لوگوں کے لیے گن حاصل کرنے کے آن لائن پلیٹ فارم کا کام کر رہی ہے۔‘

گروپ کا کہنا ہے کہ اسے ایسے دو واقعات کے شواہد ملے ہیں جن میں فیس بک سے خریدی گئی گن کو دوسروں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

ایوری ٹاؤن فار گن سیفٹی ان گروپوں میں شامل تھا جنھوں نے فیس بک کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے کہا تھا۔

اسی بارے میں