امدادی کارروائیوں میں مددگار لال بیگ روبوٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روبوٹ کی کمر پر اصل لال بیگ سے مشابہ پلاسٹک کا بنا ہوا سخت خول چڑھا ہوا ہے

امریکہ میں سائنسدانوں نے ایک ایسا روبوٹ تیار کرلیا ہے جس کی شکل بالکل کاکروچ یعنی لال بیگ جیسی ہے اور اسے زلزلے کی صورت میں امدادی کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق یہ ننھا روبوٹ کیڑے کی طرح دراڑوں میں سے سکڑ کے گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اس پہ کیمرا لگا دیا جائے تو یہ منہدم ہونے والی عمارتوں میں حافظتی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائنسی جریدے ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق روبوٹ کے پروٹوٹائپ (ابتدائی بڑے ماڈل) کی جسامت انسانی ہتھیلی جتنی ہے۔

امریکی سائنسدانوں پر مشتمل ٹیم کی سربراہی کرنے والے ہارورڈ یونی ورسٹی کے ڈاکٹر کوشک جیارام کہتے ہیں ’لال بیگوں کے بارے میں سب سے متاثر کن بات یہ ہے کہ وہ ایک چوتھائی انچ خالی جگہ سے یوں گزر جاتے ہیں جیسے وہ جگہ ڈیڑھ انچ چوڑی ہو۔ ایسا وہ اپنی ٹانگیں باہر کی سمت مکمل طور پر پھیلا کر کرتے ہیں۔

’جب یہ کیڑے آزادانہ گھوم رہے ہوتے ہیں تو ان کا قد نصف انچ کے قریب ہوتا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر یہ اپنا جسم اتنا چپٹا کر سکتے ہیں کہ وہ ایک کے اوپر ایک رکھے ہوئے دو سکّوں کی اونچائی کے برابر ہو جاتا ہے۔‘

Image caption لال بیگ نہ صرف شگافوں اور روزن سے گزر سکتے ہیں بلکہ اپنے وزن سے 900 گنا زیادہ بوجھ بغیر زخمی ہوئے اٹھا سکتے ہیں

انھوں نے مزید بتایا کہ لال بیگ نہ صرف شگافوں اور روزن سے گزر سکتے ہیں بلکہ اپنے وزن سے 900 گنا زیادہ بوجھ بغیر زخمی ہوئے اٹھا سکتے ہیں۔

اس روبوٹ نما آلے کا نام کریم (کنٹرولڈ روبوٹ ود آرٹیکولیٹیڈ میکینزم) رکھا گیا ہے اور یہ اپنے قد سے محض نصف اونچی جگہ سے گزر سکتا ہے۔ اس کی کمر پر اصل لال بیگ سے مشابہ پلاسٹک کا بنا ہوا سخت خول چڑھا ہوا ہے۔

ڈاکٹر جیارام کے ساتھی سائنسدان برکلے میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر رابرٹ فُل کہتے ہیں ’زلزلہ آنے کی صورت میں امدادی کارکنوں کے لیے جاننا ضروری ہوتا ہے کہ کیا امدادی کارروائی کےآغاز کے لیے ملبہ محفوظ ہے۔ اس عمل میں سب بڑی دشواری یہ پیش آتی ہے کہ روبوٹوں کی رسائی ملبے کے اندر تک نہیں ہوتی ہے۔

’لیکن اگر وہاں بہت سی دراڑیں، سوراخ، یا نالیاں ہوں تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان روبوٹوں کی ایک بڑی تعداد اندر داخل کرکے زندہ بچ جانے والے افراد کو نہ صرف ڈھونڈا جاسکتا ہے بلکہ امدادی کارکنوں کے داخلے کے لیے راستے بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

’حشرات الارض زمین پر سب سے کامیاب جانور ہیں کیونکہ یہ تقریباً ہر جگہ داخل ہوسکتے ہیں، ہمیں انھیں تخلیقی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کہ بالکل ان جیسی خصوصیات کے حامل روبوٹ کیسے بنائے جاسکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں