محکمۂ انصاف، ہوم لینڈ سکیورٹی پر سائبر حملہ ’سنگین نہیں تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محکمہ انصاف کی جانب سے بھی اس سائبر حملے کو کم اہمیت دی گئی ہے

امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ محکمۂ انصاف اور ہوم لینڈ سکیورٹی کو سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ سنگین واردات نہیں تھی۔

ایک ہیکر یا ہیکنگ گروپ نے ٹوئٹر پر کچھ مواد شائع کیا ہے جو کہ اُن کے مطابق ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کے نو ہزار ملازمین کے ریکارڈز تھے۔

ٹیکنالوجی کے حوالے سے کام کرنے والی نیوز سائٹ مدر بورڈ کے مطابق ہیکر کا کہنا ہے کہ وہ جلد ایف بی آئی کے عملے سمیت محکمۂ انصاف کے 20 ہزار ملازمین کی ذاتی معلومات افشا کریں گے۔

نیوز ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے لائی گئی خفیہ معلومات کے کچھ حصوں کی تصدیق ہوئی ہے لیکن یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ ان معلومات میں سے کچھ غلط یا پھر ممکنہ طور پر متروک شدہ ہیں۔

ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے اِن اطلاعات کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لیا ہے، تاہم اب تک کسی حساس یا ذاتی قابلِ شناخت معلومات کی خلاف ورزی کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔‘

محکمہ انصاف کی جانب سے بھی اس سائبر حملے کو کم اہمیت دی گئی ہے۔

مدر بورڈ کے مطابق ہیکر نے اس سائبر حملے کے طریقے کے بارے میں کچھ اس طرح سے بتایا ’میں نے کال کی اور انھیں بتایا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ (پورٹل) سے آگے کیسے جاؤں۔

انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میرے پاس کوئی ٹوکن کوڈ ہے۔ میں نے کہا نہیں، انھوں نے کہا کوئی بات نہیں۔ ہمارے کوڈز میں سے ایک استعمال کر لیں۔‘

امریکہ میں حکومتی نظام کی سکیورٹی کو گذشتہ سال اُس وقت سے سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے جب پرسنل منیجمنٹ کے دفتر سے 50 لاکھ سے زائد افراد کی ذاتی معلومات چوری ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

اسی بارے میں