ایران کی’اخلاقی پولیس‘سےبچانے والی ایپ

تصویر کے کاپی رائٹ Gershad

ایران میں ایپ بنانے والی ایک نامعلوم ٹیم نے فیشن کرنے والے نوجوان ایرانیوں کے لیے ملک کی ’ارشاد‘ نامی اخلاقی پولیس سے بچانے کا حل ڈھونڈ نکالا ہے۔

ارشاد کی موبائل چیک پوسٹیں عام طور پر ایک وین پر مشتمل ہوتی ہیں۔ چند باریش مرد اور ایک یا دو چادر پوش خواتین ایران کے قصبوں میں تعینات کی جاتی ہیں اور وہ بنا کسی نوٹس کے پہنچ جاتی ہیں۔

اخلاقی پولیس ارشاد کے اہلکاروں کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، جن میں خبردار کرنا، ملک کے اسلامی ضابطہ کار کی خلاف ورزی کرنے والوں سے تحریری بیان لینا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے، جرمانہ کرنا اور خلاف ورزی کرنے والوں پر مقدمہ چلانا بھی شامل ہے۔

’گرشد‘ نامی نئی موبائل فون ایپ صارفین کو چیک پوائنٹس سے آگاہ کرے گی اور انھیں کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔

اس ایپ میں ڈیٹا کا انحصار لوگوں پر ہے۔ صارفین نقشے پر ارشاد کے چیک پوائنٹس کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے اور اگر بڑی تعداد میں صارفین نے ایک ہی جگہ کے بارے میں بتایا تو دیگر صارفین کے لیے نقشے پر الرٹ جاری ہو جائے گا۔ جیسے ہی چیک پوائنٹس بتانے والے صارفین کی تعداد کم ہوتی جائے گی وہ الرٹ دھندلا ہوتا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitternima

اپنے ویب پیج پر ایپ بنانے والوں نے ایک بیان میں اپنے مقاصد کے بارے میں کہا ہے کہ ’ہماری مرضی کے کپڑے پہننے کے حق کے لیے ہماری تذلیل کیوں ہو؟ سوشل میڈیا نیٹ ورک اور ویب سائٹس ارشاد کے اہلکاروں کی جانب سے معصوم خواتین کو زمین پر گھسیٹنے اور مارنے کی ویڈیوز اور تصاویر سے بھری پڑی ہیں۔

’پولیس شہریوں کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ہے نہ کہ خوف کا باعث بننے کی۔ کچھ عرصہ قبل ہم نے کچھ ایسے ہی المناک اور ناجائز واقعات کو دیکھنے کے بعد پرامن طریقے سے ناانصافی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ایسے حل کی تلاش میں کام شروع کیا جس میں خطرہ کم ہو اور ہماری آزادی بھی بحال ہو سکے۔‘

یہ ایپ ایرانی سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ عام طور پر صارفین نے اس ایپ کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک صارف بے لکھا: ’یہ زبردست ہے۔‘

ایک اور صرف کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک اچھا اور دلچسپ خیال ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس ایپ کی سکیورٹی بھی سخت ہو گی تاکہ ارشاد کے مقام کے بارے میں بتانے والے صارف کی معلومات کو ٹریک نہ کیا جا سکے۔‘

ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ ایپ کام کرتی ہے یا نہیں، مجھے اس کی پروا نہیں لیکن ہر بار ڈاؤن لوڈ کرنا بھی ایک احتجاج ہے۔‘

اسی بارے میں