گوگل نے ’بھول جانے کا حق‘ تسلیم کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی گوگل نے کہا ہے کہ وہ یورپی شہریوں کے ’رائٹ ٹو بی فورگاٹن‘ یا ’بھول جانے کے حق‘ کو مانتے ہوئے اس تمام مواد کو ان ممالک میں نہیں دکھائےگا جہاں سے انھیں ہٹانے کی منظوری دی گئی ہو۔

یورپی شہری اپنے ’بھول جانے کے حق‘ کے تحت سرچ انجنوں سے کہہ سکتے ہیں کہ ان سے متعلق اطلاعات کو سرچ میں نہ دکھایا جائے۔ اس درخواست کے تحت ہٹائی گئی معلومات سرچ انجن کے کسی بھی ورژن پر نظر نہیں آئیں گی۔

تقریباً دو سال قبل یورپی یونین کی عدالتِ انصاف نے قرار دیا تھا کہ لوگوں کی درخواست پر’غیر متعلقہ اور پرانے‘ ڈیٹا کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔

یہ معاملہ سپین کے ایک شہری کی درخواست پر عدالت میں آیا ہے جس کا کہنا ہے کہ اس کے مکان پر نیلامی کا جو نوٹس لگا ہے وہ گوگل سرچ میں دکھائی دے رہا ہے اور یہ اس کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ زندگی میں ایک بدقسمت موقعے کی معلومات کو ہمیشہ انٹرنیٹ پر فراہم کر کے سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

ابھی تک ’بھول جانے کے حق‘ کے تحت معلومات کو صرف گوگل کے یورپی ورژن جیسے، گوگل ڈاٹ کام، سی او ڈاٹ یوکے، یا گوگل ڈاٹ ایف آر سے ہٹایا جاتا تھا۔

فرانس کی ڈیٹا اتھارٹی نے گوگل کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے اپنی گوبل سائٹس سےبھی مطلوبہ معلومات کو نہ چھپایا تو انھیں جرمانے ادا کرنا پڑے گا۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یہ تبدیلی فروری کے وسط سے نافذ ہو جائے گی۔

اسی بارے میں