’برازیل میں زکا وائرس سے نوازئیدہ بچوں میں اموات کے شواہد‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption س وقت صرف برازیل میں ہی 4000 سے زیادہ بچے مائیکرو سیفلیک یعنی غیر معمولی طور پر چھوٹے سائز کے دماغ کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں

امریکی صحت عامہ کے ایک انتہائی سینئر افسر نے نوزائیدہ بچوں پر زکا وائرس کے اثرات کے حوالے سے اب تک حاصل ہونے والے ’سب سے اہم ثبوت‘ کا انکشاف کیا ہے۔

بیماریوں پر قابو پانے والے امریکی ادارے سی ڈی سی کےسربراہ ٹام فرائیڈین کا کہنا ہے کہ برازیل میں پیدائش کے فوری بعد وفات پانے والے بچوں کے کیسز کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس بات کا اشارہ ملتاہے کہ وہ زکا وائرس کا شکار تھے اور یہ وائرس ان میں ان کی ماؤں سے منتقل ہوا تھا۔

لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بارے میں ابھی حتمیٰ طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

خیال ہے کہ اس وقت صرف برازیل میں ہی 4000 سے زیادہ بچے مائیکرو سیفلیک یعنی غیر معمولی طور پر چھوٹے سائز کے دماغ کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں جو زکا وائرس سے متاثر ہونے کی نشانی ہے، اور شک ہے کہ یہ وائرس ان بچوں میں ان کی ماؤں سے منتقل ہوا ہے۔

ڈاکٹر فرائیڈین کا کہنا ہے کہ مچھروں میں موجود اس وائرس پر مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقق جاری ہے تاکہ اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین تیار کی جاسکے، لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کام میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ’آنے والے دنوں میں پورٹو ریکو اور دیگر امریکی علاقوں میں زکا وائرس کے متعدد کیسز سامنے آسکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر فرائیڈین نے کہا کہ سی ڈی سی متاثرہ امریکی ریاستوں کو زکا وائرس والے مچھروں کی افزائش روکنے کے لیے مالی امداد فراہم کرے گا۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے بھی اس وائرس کو ’عالمی ایمرجنسی‘ قرار دیا ہے اور خواتین کو اپنے آپ کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

ان ہدایات میں بتایا گیا ہے کہ جب تک یہ بات واضح نہیں ہوجاتی کہ آیا اس وائرس کے منتقل ہونے کی وجہ جنسی اختلاط ہے یا نہیں، تب تک تمام مرد و خواتین، جو زکا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں رہ رہے ہیں یا پھر وہاں سے واپس آرہے ہیں، خاص طور پر حاملہ خواتین اور ان کے شوہر، جنسی تعلقات میں احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sedat Suna EPA

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ’ان تدابیر میں کونڈوم کا صحیح اور مستقل استعمال شامل ہے، جو جنسی اختلاط سے منتقل ہونے والی تمام بیماریوں سے بچاؤ کا سب سے موثر طریقہ بھی ہے۔‘

مانع حمل دواؤں کا استعمال ان علاقوں میں متنازعہ ہوسکتا ہے جہاں کیتھولک چرچ نے اس کے خلاف موقف جاری کیا ہواہے۔

چرچ نے ان آزاد خیال کیتھولک افراد کی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے جس میں انھوں کہا تھا کہ اس وبا کے پیش نظر مانع حمل دواؤں کے استعمال پر پابندی میں نرمی کی جائے۔

برازیلیئن بشپ کانفرنس کے سیکرٹری جنرل نے ساؤ پاؤلو کے اخبار ایستادو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مائکروسیفالی نامی وائرس برازیل میں سالوں سے موجود ہے، اور یہ آزاد خیال لوگ اس موقع کواسقاط حمل کے موضوع کو دوبارہ اٹھانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔‘

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس کا متاثرہ علاقوں میں سفر پر پابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن مشورہ دیا ہے کہ وہ خواتین جو حاملہ ہیں یا پھر حاملہ ہونے ارادہ رکھتی ہیں، زکا وائرس سےمتاثرہ علاقوں میں جانے سے قبل طبی رائے ضرور حاصل کریں۔

اسی بارے میں