گدھوں کی حفاظت اور افزائش کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ G.SHORROCK
Image caption آئی یو سی این کا کہنا ہے کہ گدھوں کی افزائش کے پروگرام پر مزید خرچ کیا جائے تاکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو

بھارت میں ماحولیات کے کارکنوں نے گدھوں کے تحفظ کے لیے ان کی کھانے پینے کی سرگرمیوں کی قدر مقرر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندوستان ٹائمز کے مطابق انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے صنعتی گندگی کو ضائع کرنے پر آنے والی لاگت اور گدھوں کی جانب سے فضلہ کھانے کے درمیان موازنہ کیا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 600 معدوم ہونے والے یہ پرندے ایک سال میں اتنے مردہ جانور کھا جاتے ہیں جتنا کہ ایک میڈیم سائز کا ڈسپوزل پلانٹ ایک سال میں مردار جانور ضائع کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق پلانٹس پر آنے والے خرچ کے مقابلے میں ہر شہر میں گدھوں کی خوراک تلاش کرنے کی سرگرمیوں کی قیمت چھ لاکھ 96 ہزار روپے، جب کہ دیہی علاقوں میں پانچ لاکھ 85 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

آئی یو سی این کا کہنا ہے کہ گدھوں کی افزائش کے پروگرام پر مزید خرچ کیا جائے تاکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو۔

تحقیق کے سربراہ این ایم ایشور کا کہنا ہے ’مردار کو ضائع کرنے کے ایک پلانٹ پر جو لاگت آتی ہے اس کے 75 فیصد لاگت میں 600 پرندوں کی افزائش اور ان کو کھلا میں چھوڑنے پر لاگت آئے گی۔ کم از کم دیہی علاقوں میں گدھوں کی افزائش پر سرمایہ کاری مفید ہے۔‘

آئی یو سی این کی فہرست کے مطابق گدھوں کی تعداد میں 1980 کی دہائی کے بعد تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اور ان میں سے چار انواع اس تنظیم کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔

آئی یو سی این کے بقول مشرق سے تعلق رکھنے والے سفید پشت گدھ کی تعداد میں 99.9 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کی تعداد میں کمی کی وجہ وہ درد کی دوا ہے جو جنوبی ایشیا میں جانوروں کو دی جاتی ہے۔

جانوروں کو دی جانے والی اس دوا پر اب پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ دیگر ادویات پرندوں کے لیے مضر ہیں۔

اسی بارے میں