کشمیر میں آبی پرندوں کی گنتی کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال کی جانے والی پرند شماری کے تحت تقریباً پانچ لاکھ آبی پرندوں نے کشمیر کے 13 دلدلی علاقوں کا سفر کیا تھا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں محکمہ جنگلی حیات نے پہلی مرتبہ عالمی طور پر تسلیم شدہ ضوابط کے تحت آبی پرندوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

اس علاقے میں ہر سال موسم سرما میں جاپان سے لے کر شمالی یورپ تک سے مختلف النوع نسل کے تقریباً 10 لاکھ کے قریب پرندے ہجرت کر کے آتے ہیں۔

ماضی میں دو روزہ پرندہ شماری کا عمل قابل اعتبار نہ ہونے کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ رہا ہے تاہم رواں سال محکمہ جنگلی حیات کے ایک نگران امتیاز لون کاکہنا ہے کہ اس بار یہ عمل بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ضوابط کے تحت کیا جارہا ہے۔

اس پرندہ شماری کے نتائج کا اعلان ایک ماہ میں متوقع ہے۔

گذشتہ برسوں میں سائنسدانوں کی جانب سے آبی پرندوں کی غیر رسمی گنتی پر تنقید کے بعد محکمہ جنگلی حیات کے سو سے زائد اہلکار اور رضاکار اس علاقے میں دوسری مرتبہ کی جانے والی سرکاری پرندہ شماری میں حصہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشہ سال سے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے محکمہ جنگلی حیات کا عملہ بین الاقوامی ماحولیاتی گروہوں کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں آبی پرندوں کی گنتی کے عمل کا حصہ ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے نگران امتیاز لون کہتے ہیں ’ہمیں یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ ابتدائی سالوں میں یہ سب صرف تخمینوں اور اندازوں کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ لیکن اب ہم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سائنسی طریقہ کار کے تحت آبی پرندوں کی گنتی کر رہے ہیں۔‘

گذشتہ سال کی جانے والی گنتی کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ آبی پرندوں نے کشمیر کے 13 دلدلی علاقوں کا سفر کیا تھا۔ رواں سال کی جانے والی دو روزہ پرندہ شماری میں 21 دلدلی علاقوں کو شامل کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں اندیشہ ہے کہ آبی پرندوں کے ٹھکانوں کی تباہی، موسمی تغیرات، اور خاص طور پر بارشوں کی متلونی صورت حال کے باعث ان علاقوں میں ہجرت کرنے والے پرندوں کی تعداد میں بتدریج کمی آرہی ہے۔

لون کہتے ہیں ’ہم پہلے ہی (آبی پرندوں کی) تعداد میں واضح کمی دیکھ رہے ہیں۔ غیر موزوں موسمی ماحول اور پھر رواں سال کم بارشوں نے کمی کے اس رجحان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘