ڈھائی سو روپے کے بھارتی سمارٹ فون کی حقیقت

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بدھ کو ’دنیا کے سب سے سستے کہلائے جانے والے سمارٹ فون فریڈم 251 ‘ کو متعارف کروایا گیا ہے۔

اس فون کو متعارف کروانے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی قیمت صرف 251 بھارتی روپے ہے۔

سمارٹ فون فریڈم 251 متعارف کروانے والی کمپنی ’رینگنگ بیلز‘ موبائل کی صنعت میں ایک نئی کمپنی ہے جس نے ایک سال پہلے اپنے کام کا آغاز کیا ہے۔

’رینگنگ بیلز‘ نے اپنی ویب سائٹ فریڈم 251 ڈاٹ کام کے ذریعے جمعرات کو پری آرڈرز لینے کا کام شروع کیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سمارٹ فون پانچ دن تک آن لائن فروخت کیے جائیں گے اور اس کے لیے صارفین کو بطور ایڈوانس پوری رقم دینا ہو گی۔ کمپنی کے مطابق اس سمارٹ فون کی ترسیل جون سے شروع کر دی جائے گی۔

’رینگنگ بیلز‘ کمپنی کے بانی موہت گوئل کا کہنا ہے کہ یہ سمارٹ فون وزیرِ اعظم نریندر مودی کے پروگرام ’میک ان انڈیا‘ کی مہم سے متاثر ہو کر مقامی طور بنایا گیا ہے۔

تاہم میڈیا کو جس فون کا پروٹوٹائپ دکھایا گیا وہ دراصل ایک چینی فون تھا جس کا نام ایڈ کام ہے۔ اس اینڈروئڈ فون کی سکرین چار انچ ہے اور امریکی کمپنی ایپل کے پرانے آئی فون فور کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

خیال رہے کہ ایڈ کام نئی دہلی کی ٹیکنالوجی منصوعات درآمد کرنے والی کمپنی ہے۔

ایڈ کام کمپنی کا آئی کون نامی ایک اور فون بھارت کی ای کامرس ویب سائٹ فلپ کارٹ پر 4,000 بھارتی روپے یا 59 امریکی ڈالر میں دستیاب ہے اور اس کی خصوصیات بھی فریڈم 251 سمارٹ فون جیسی ہیں۔

سمارٹ فونز کے نمونے استعمال کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سمارٹ فونز کا 480X800 ڈسپلے اور کارکردگی توقع کے مطابق تھی تاہم ایسے فونز کی رینج 50 ڈالر تک ہوتی ہے اور وہ استعمال کے لحاظ سے کچھ زیادہ اچھے نہیں ہوتے۔

بھارت کی گذشتہ حکومت کے دوران سستے ترین آکاش ٹیبلٹ فروخت کرنے والے ڈیٹا ونڈ کمپنی کے سی ای او سنیت سنگھ تولی کا کہنا ہے کہ اس فون میں استعمال ہونے والے صرف اجزا کی قیمت ہی آٹھ گنا زیادہ ہے اور صرف میمری کی بین الاقوامی قیمت 251 روپے سے کہیں زیادہ ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ فون کی 90 فیصد لاگت کہیں اور سے آ رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق رینگنگ بیلز کمپنی کس طرح اپنے سمارٹ فون کی فروخت جاری رکھ سکے گی اور وہ بھی کسی سبسڈی کے بغیر؟

سائیبر میڈیا ریسرچ (سی ایم آر) کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سنہ 2015 کے دوران 94 فیصد فیچر فونز کی قیمت 2,000 روپے سے کم تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت کم قیمت کے فیچر فونز کی بہت بڑی مارکیٹ ہے۔

دوسری جانب بھارت میں سمارٹ فونز کی قیمیں بہت زیادہ بڑھی ہیں۔ بھارت میں سنہ 2015 کے دوران فروخت ہونے والے سمارٹ فونز کی قیمتیں 4,000 سے 6,000 دوران رہیں۔

سی ایم آر کے تجزیہ کار فیصل کواسو کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک نئی کمپنی ہے جس کا الیکٹرانکس کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور یہ آسان نہیں ہو گا۔‘

فیصل کواسو کے مطابق رینگنگ بیلز نے بظاہر بھارت میں فون فروخت کرنے کے لیے لازمی اندارج بھی نہیں کروایا ہے۔

ادھر میڈیا رپورٹوں کے مطابق بھارت کی سیلیولر ایسوسی ایشن نے ٹیلی کام کے وزیر روی شنکر پرساد کو ایک خط میں لکھا ہے کہ تھری جی فونز کو 2,700 روپے سے کم قیمت پر فروخت کرنا ممکن نہیں ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن کریت سمویا نے بھی شنکر پرساد کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ یہ کوئی فراڈ بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں