فیس بک کا ایپل کی حمایت کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوشل نیٹ ورک آپریٹر فیس بک نے آئی فون بنانے والی کمپنی اپیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک نے جمعرات کو ایپل کی جانب سے اس عدالتی فیصلے کی مخالفت کی حمایت کی ہے جس میں ایپل کو سان برنارڈینو میں ہونے والے حملے میں ملوث رضوان فاروق کے فون کے مواد تک رسائی کے لیے آیف بی آئی کی مدد کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

فیس بک کے ایک اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم کمپنیوں کے سکیورٹی کے نظام کو کمزور کرنے والے مطالبات کے خلاف بھرپور لڑائی جاری رکھیں گے۔ ایسے مطالبات ڈراؤنی مثال اور کمپنیوں کی اپنی مصنوعات محفوظ بنانے کی کوششوں کی راہ میں خلل ہیں۔‘

گذشتہ دسمبر میں رضوان فاروق نے کیلیفورنیا کے شہر سان برناڈینو میں اپنی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد پولیس نے انھیں بھی گولی مار دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ دسمبر میں رضوان فاروق نے سان برنارڈینو میں اپنی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا

رضوان فاروق سے آئی فون برآمد ہوا تھا اور اس فون میں موجود تحریری اور تصویری مواد تک رسائی کے معاملے پر ٹیک کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین انکرپشن کی حدود پر تنازع سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ عدالت نے ایپل کو حکم دیا تھا کہ وہ سان بارنارڈینو کے حملہ آور سید رضوان فاروق کے آئی فون میں موجود ڈیٹا تک رسائي کے لیے ایف بی آئی کی مدد کرے۔

تاہم ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گيا تھا کہ ’امریکہ کی حکومت نے ایپل کو ایک بے مثل قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے ہمارے صارفین کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ہم اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں، جس کے حالیہ قانونی مقدمے کے علاوہ بھی اثرات ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ستمبر 2014 تک ایپل کی مصنوعات میں موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا خود بخود انکرپٹڈ ہوجاتا ہے

دوسری جانب وائٹ ہا‎ؤس کا کہنا تھا کہ عدالت نےایپل سے حملہ آور کے فون کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے ایف بی آئی کی مدد کرنے کی جو مطالبہ کیا ہے اس کا مطلب آئی فون کے مواد تک ’چوری چھپے رسائی حاصل کرنا‘ نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کے مطابق تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی صرف ایک فون تک رسائی چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ڈیوائس تک چوری چھپے یا کمپنی کی ڈیوائس تک غیر قانونی رسائی چاہتے ہیں۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چيت میں انھوں نے کہا ’وہ صرف اس بات کے لیے کہہ رہے ہیں جس سے ان کا صرف ایک فون متاثر ہو گا۔‘

اسی بارے میں