تتلی جیسے سمندری گھونگے کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption اس گھونگے کا ایک کیڑے کی طرح کی حرکت کرنا ’دو مختلف مخلوقات کے ملاپ کے ارتقائی عمل کی بہترین مثال‘ ہے

ایک تحقیق کے مطابق سمندری گھونگے کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو سمندر کے اندر پروں والے ننھے کیڑوں کی طرح حرکت کرتے ہوئے اڑتی ہے۔

امریکی سائنسدانوں نے تتلی کی طرح کے اس سمندری گھونگے کی حرکات پر غور کرنے کے لیے تیز رفتار فلم اور فلو ٹریکنگ نظام کا استعمال کیا ہے۔

تین ملی میٹر کا یہ گھونگا اڑنے والے کیڑوں کی طرح اپنے پروں کو پھڑپھڑاتا اور اس کے پر عین اس جگہ اگے ہوئے ہیں جہاں عام طور پر ایک گھونگے کے پاؤں ہوتے ہیں۔

یہ ان طریقوں کا استعمال بھی کرتا ہے جو اکثر اڑنے والے کیڑے اپنے آپ کو ہوا میں معلق رکھنے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔

جان ہوپکنز یونیورسٹی کے مکینیکل انجینئر ڈاکٹر ڈیوڈ مرفی بتاتے ہیں ’ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے کیڑے کی مانند اڑ رہا ہے۔‘

ایکسپیریمنٹل بیالوجی نامی جنرل میں چھپنے والی یہ تحقیق جارجیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کے دوران ڈاکٹر مرفی کے پی ایچ ڈی کا ایک حصہ ہے۔

اس عجیب وغریب شکاری گھونگے کا حیاتیاتی نام لیماسانیا ہیلی سینا ہے جو اگر پانی میں اپنے منفرد انداز سے تیر نہیں رہا ہوتا تو اپنے لعاب سے اپنے گرد ایک جال بن لیتاہے جو اس کی غذا کے انتخاب میں ایک چھلنی کا کام دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption یہ ان طریقوں کا استعمال بھی کرتا ہے جو اکثر اڑنے والے کیڑے اپنے اپ کو ہوا میں معلق رکھنے کے لیے اختیار کرتے ہیں

تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ اس گھونگے کا ایک کیڑے کی طرح کی حرکت کرنا ’دو مختلف مخلوقات کے ملاپ کے ارتقائی عمل کی بہترین مثال‘ ہے۔

ڈاکر مرفی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تقریباً تمام چھوٹے آبی جانور اپنے پروں کو پیروں کی طرح استعمال کرتے ہیں۔‘

’اور مجھے یقین تھا کی یہ سمندری تتلی بھی ایسا ہی کرے گی لیکن مجھے اس وقت واقعی حیرت ہوئی جب میں نے اس کی حرکات کو اڑنے والے کیڑوں سے زیادہ قریب پایا۔‘

ڈاکٹر مرفی بتاتے ہیں کہ ’انھوں نے چار کیمروں کی مدد سے اس کیڑے کے تیرنے کے دوران پیدا ہونے والے بہاؤ کو ناپنے کے لیے تھری ڈی تصاویر لیں۔‘

اسی کے ساتھ یہ کیمرے اس کیڑے کی اپنی رفتار اور حرکات کی تفصیلات بھی محفوظ کرتے رہے۔

’اور کچھ ماہ اس کیڑے کے پروں کے سروں پر تحقیق کرنے کے بعد مجھے میری محنت کا ثمرمل گیا۔

’میں یہ ساری معلومات محفوظ کرتا رہا جس کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ حسین مخلوق شہد کی مکھی سی بھی مختلف ہے۔‘

ڈاکٹر مرفی بتاتے ہیں کہ ’اس گھونگے کی کیڑے سے مشابہت یہاں ہی ختم نہیں ہوتی کیونکہ میں نے یہ بھی دیکھا کی یہ گھونگا اپنے پروں کو ایک عام کیڑے کی طرح ہی اوپر نیچے کرتا ہے۔‘

’جس چیز نے مجھے واقعی قائل کردیا وہ یہ تھی کہ اس گھونگے کے پر بھی اس ہی طرح پھڑپھڑاتے ہیں جس طرح ایک اڑنے والے ننھے کیڑے کے پر ہوا میں اٹھتے وقت پھڑپھڑاتے ہیں۔‘

'یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ اس گھونگے کے پروں کے کھلتے وقت ان کے درمیان ایک سیال مادہ پیدا ہوتا جس سے ان کے پروں کے کناروں پر ایک بھنور سا بن جاتا ہے جو ان کو مزید اوپر اتحنے میں مدد دیتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Murphy et al. J Exp Biol
Image caption اس سمندری گھونگے کی حرکات پر غور کرنے کے لیے تیز رفتار فلم اور فلو ٹریکنگ نظام کا استعمال کیا

ڈاکٹر مرفی نے بتایا کہ وہ مزید تحقیق کے بعد یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ مخلوق کس طرح زندگی گزارتی ہے جن میں اس کی غذا حاصل کرنے، تولیدی عمل اور شکاریوں سے بچاؤ کے طریقے شامل ہیں۔

یہ معلومات اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ ننھی مخلوق ماحولیاتی عمل میں ایک بڑا کردار ادا کرسکتی ہے۔

ڈاکٹر مرفی نے کا کہنا ہے کہ ’یہ کیڑے حیاتیاتی چکر کے لحاظ سے بھی اہم ہیں۔ ان کے گرد کیلشیم کاربونیٹ کا ایک خول موجود ہوتا ہے اور جب یہ گھونگے ختم ہونے کے بعد سمندر کی تہ میں چلے جاتے ہوں تو ممکن ہے کی ان کے خول سمندر میں کاربن کی موجودگی کی ایک بڑی وجہ بنتے ہوں۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’ان گھونگوں پر لیبارٹری میں تحقیق کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ بہت نازک ہیں اور سوائے ان کے خول کے ان کا سارا جسم جیلی کی طرح ہے۔‘

’یہ واقعی ایک منفرد مخلوق ہیں۔‘

اسی بارے میں