اوبر کو چین میں ایک ارب ڈالر سالانہ نقصان

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption امریکی کمپنی اوبر نے سنہ 2014 میں چین میں اپنی سروس متعارف کروائی تھی

چین میں انٹرنیٹ اور موبائل فون ایپلیکیشن کے ذریعے ٹیکسی کی بکنگ سروس ’اُوبر‘ کو سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور اسے مقامی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

اس امر کا انکشاف کینیڈا کی ٹیک نیوز ویب سائٹ بیٹا کٹ کے مطابق اوبر کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ٹراوس کلانک نے وینکوور میں ایک تقریب کے دوران کیا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق اوبر چائنا نے ایک ارب ڈالر کے اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔

امریکی کمپنی اوبر نے سنہ 2014 میں چین میں اپنی سروس متعارف کروائی تھی اور اس کا مقابلہ ملک کی سب سے بڑی ٹیکسی ایپ کمپنی ڈیڈی کوائیڈی سے ہے۔

اوبر چین کے 40 شہروں میں دستیاب ہے۔ اس نے گذشتہ سال اعلان کیا تھا کہ اسے آئندہ 12 مہینوں میں 100 سے زائد شہروں میں متعارف کرایا جائے گا۔

بیٹا کٹ کے مطابق ٹراؤس کلانک کا کہنا تھا کہ ’امریکہ میں ہم منافع بخش ہیں، لیکن ہم چین میں ایک ارب ڈالر سے زائد کھو رہے ہیں۔‘

انھوں نے چین کو اپنی کمپنی کی بہترین عالمی منڈی قرار دیا لیکن اوبر کو اس سے بڑی کمپنی ڈیڈی کوائیڈی کا سامنا ہے۔

’ہمارا اس سے سخت مقابلہ ہے جو ہر اس شہر میں غیرمنافع بخش ہے جہاں ہم موجود ہیں، لیکن وہ مارکیٹ شیئر خرید رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اوبر کی ویب سائٹ کے مطابق اوبر دنیا بھر میں 380 شہروں میں دستیاب ہے

ٹراؤس کلانک کا اس سے قبل کہنا تھا کہ چین کی مارکیٹ میں وہ ایک فیصد حصے سے سنہ 2015 کے آغاز پر 30 سے 35 فیصد حصے تک پہنچ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈیڈی کوائیڈی کو چین کی بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں ٹیسنٹ اور علی بابا کی معاونت حاصل ہے اور اب اس نے امریکہ میں اوبر کی حریف کمپنی لفٹ کے ساتھ بھی اشراک کر لیا ہے۔

بیٹا ٹیک کے مطابق ٹراؤس کلانک کا کہنا ہے کہ انھوں نے حال ہی میں نئی منڈیوں میں متعارف کروانے میں مدد کے لیے دو کروڑ ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔

اوبر کی ویب سائٹ کے مطابق اوبر دنیا بھر میں 380 شہروں میں دستیاب ہے۔

اسی بارے میں