ماحولیاتی تپش، ’سمندر کی سطح میں غیرمعمولی اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ UNIAN
Image caption ویں صدی کے دوران دنیا میں سمندر کی سطح میں 5.5 انچ کا اضافہ دیکھا گیا ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق میں انسانی ساختہ ماحولیاتی تپش کی وجہ سے زمین پر سطح سمندر میں گذشتہ دو ہزار آٹھ سو سالوں کے مقابلے میں کئی گنا تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

دنیا بھر میں دو درجن سے زائد جگہوں پر سائنسدانوں کی ایک ٹیم نےکھدائی کرکے صدیوں اور ہزاروں سالوں پر محیط سمندر کے انتہائی آہستہ روی سے ہونے والے اتار چڑھاؤ کے اعدادوشمار اکٹھا کیے ہیں۔

18ویں صدی میں دنیا میں صنعت کاری کے آغاز تک سطح سمندر میں اضافے کی شرح ایک صدی میں ایک سے ڈیڑھ انچ کے درمیان تھی۔ اس زمانے تک زمین پر سمندر کی مجموعی سطح کی شرح کم و بیش دو ہزار سالوں کے درمیان تین انچ کے درمیان ہی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی تھی۔

20ویں صدی کے دوران دنیا میں سمندر کی سطح میں 5.5 انچ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم سنہ 1993 سے سطح سمندر کی شرح میں ایک صدی میں ایک فٹ کے قریب اضافہ ہوا ہے۔ پیر کے روز سائنسی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی دو مختلف تحقیقات کے مطابق سنہ 2100 تک زمین پر سطح سمندر میں 11 سے 52 انچ کے درمیان اضافہ ممکن ہے۔ تاہم اس کا انحصار زمین پر گرم گیسوں کا اخراج کرنے والی صنعتوں اور گاڑیوں پر ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption تحقیق کے مصنفین کہتے ہیں کہ 20ویں صدی میں سمندر کی سطح میں ہونے والا اضافہ انسانی ساختہ ہے

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تحقیق کے سربراہ مصنف اور امریکہ کی رُٹگرز یونی ورسٹی کے ارتھ اینڈ پلینٹری سائنسز کے شعبے کے پروفیسر باب کوپ کہتے ہیں ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ 20ویں صدی سب سے تیز رفتار ہے۔ اور اس کی وجہ 20 ویں صدی میں ایندھن کے استعمال کے باعث زمین کے درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ ہے۔‘

تحقیق کے مصنفین کہتے ہیں کہ 20ویں صدی میں سمندر کی سطح میں ہونے والا اضافہ انسانی ساختہ ہے۔ کوپ اور دیگر افراد کی اشاعت کے لیے تیار ایک اور تحقیق کے مطابق سنہ 1950 سے اب تک امریکہ کی بحری پٹی کے ساتھ 27 مقامی علاقوں میں آنے والے دو تہائی سیلابوں کی وجہ انسانی ساختہ درجہ حرارت میں اضافہ تھا۔

تحقیق کے شریک مصنف اور جرمنی کے پوٹس ڈیم انسٹی ٹیوٹ فار کلائیمٹ امپیکٹ ریسرچ کے سٹیفان رہیمسٹارف کہتے ہیں سطح سمندر میں متوقع اضافے کی صورت میں مزید 18 انچوں کا اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ اس اضافے کے باعث کئی مسائل جنم لیں گے جبکہ اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔ خاص طور پر طوفانی صورت حال کے سامنے کے دوران۔

ہورٹن کہتے ہیں کہ ’سطح سمندر اور درجہ حرارت کے درمیان بڑا مضبوط رشتہ ہے۔ کاش کے ایسا نہ ہوتا، پھر ہم اتنے فکرمند بھی نہ ہوتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ 1993 سے سطح سمندر کی شرح میں ایک صدی میں ایک فٹ کے قریب اضافہ ہوا ہے

کوپ تحقیق اور اس ہی موضوع پر شائع ہونے والی ایک اور تحقیق نے مستقبل کی سطح سمندر کی پیش گوئی مختلف تکنیک کے ذریعے کی ہے۔ دوسری تحقیق کے شریک مصنف اور پوٹس ڈیم انسٹی ٹیوٹ کے محقق اینڈرز لیورمین کہتے ہیں مختلف طریقہ کار کے باوجود دونوں کی جانب سے لگایا جانے والا اندازہ ایک سا ہے۔

گرین ہاؤس گیسوں کے باعث آلودگی میں ہونے والا اضافہ اگر اس ہی طرح جاری رہتا ہے تو دونوں تحقیقات کی روشنی میں سطح سمندر میں 22 انچ سے لے کے 52 انچ تک اضافہ ممکن ہے۔

گذشتہ سال فرانس کے شہر پیرس میں ماحول کے حوالے سے کیے جانے والے عالمی معاہدے پر عمل درآمد کی صورت میں اور درجہ حرارت میں دو ڈگری فارن ہائیٹ سے زائد اضافہ روکنے کی صورت میں سطح سمندر میں 11 سے 22 انچ کے درمیان اضافہ متوقع ہے۔

اسی بارے میں