سعودی عرب میں وزن کم کرنے کا انوکھا مقابلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایک 610 کلو گرام وزنی سعودی باشندے کو سنہ 2013 میں لفٹر کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گيا تھا

سعودی عرب میں ان دنوں ایک انوکھے مقابلے کے لیے پیش قدمی کی گئی ہے اور لوگوں کو وزن کم کرنے کے لیے انعام دیے جا رہے ہیں۔

یہ مقابلہ سعودی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کرایا جا رہا ہے کیونکہ یہ ملک حد سے زیادہ وزنی لوگوں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ مقابلہ ’موٹاپا: خاموش بھوت‘ نام کے پروگرام تحت جاری ہے اور سعودی گزٹ اخبار کے مطابق اس کے تحت موٹے افراد کو وزن کم کرنے کے لیے براہ راست امداد، انعام اور مفت علاج کے ذریعے تحریک دی جا رہی ہے۔

بہر حال سب سے بڑا انعام ایک غیر مخصوص انعام ہے جو سب سے بڑے ’لوزر‘ یعنی سب سے زیادہ وزن کم کرنے والے کو دیا جاتا ہے اور اس مقابلے میں سعودی اور غیر سعودی دونوں شرکت کر سکتے ہیں۔

اس پیش قدمی کے سربراہ شہزادہ عبدالرحمن بن فیصل کا کہنا ہے کہ ابتدائي طور پر انعامات ٹی وی پروگرام کے ذریعے پیش کیے جائیں گے تاکہ لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی تحریک ملے۔ اس کے بعد ایک ہزار لوگوں کو 20 افراد کے گروپ میں 50 ہسپتالوں کے ذمے کیا جائے گا اور پھر ان میں آنے والی وزن میں کمی کو دیکھا جائے گا۔

Image caption دنیا بھر میں موٹاپے میں اضافے سے مختلف قسم کے امراض میں اضافہ ہوا ہے

منتظمین اسے مقابلہ کہنے سے گریز نہیں کرتے اور چھ ماہ بعد جو شخص سب سے زیادہ وزن کم کرے گا وہ اس انعام کا حقدار ہوگا۔ سعودی گزٹ کے مطابق اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کلینک کو بھی انعام دیا جائے گا۔

جدہ عرب نیوز کے مطابق گذشتہ دس برسوں کے دوران موٹے لوگوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے اور کنگ فہد جنرل ہسپتال میں تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد وزن کم کرنے کے لیے سرجی کی لائن میں لگے ہوئے ہیں۔

دنیا میں موٹے لوگوں کی فہرست میں ٹونگا پہلے نمبر پر ہے جبکہ سعودی عرب میں 71 فی صد افراد کا وزن زیادہ ہے یا موٹاپے کا شکار ہیں اور دنیا میں اس کا مقام 14 واں ہے۔

اسی بارے میں