ایپل کی آئی فون ان لاک کرنے کا حکم واپس لینے کی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایپل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسا سافٹ ویئر موجود ہی نہیں جو ایف بی آئی کا مقصد پورا کر سکے

ایپل نے ایک امریکی عدالت سے اس رولنگ کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے جس میں کمپنی کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ سان برنارڈینو کے حملے میں ملوث افراد میں ایک کے آئی فون میں موجود مواد تک رسائی کے لیے ایف بی آئی کی مدد کرے۔

امریکی کمپنی کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ’خطرناک طاقتیں‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ قدم کمپنی کے آئینی حقوق سے متصادم ہوگا۔

ایف بی آئی اور امریکی صدر کے دفتر کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک آئی فون کے مواد تک رسائی کا معاملہ ہے لیکن ایپل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسا سافٹ ویئر موجود ہی نہیں جو ایف بی آئی کا مقصد پورا کر سکے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ اس کے لیے اسے آئی فون چلانے والے نظام کا ایک نیا ورژن بنانا پڑے گا جس میں فون میں موجود انکرپٹڈ ڈیٹا تک رسائی کے لیے چور دروازہ موجود ہو۔

ایپل کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج تک کسی بھی عدالت نے کسی کمپنی کو مجبور نہیں کیا کہ وہ اپنی مصنوعات کی سکیورٹی کمزور کرے تاکہ ان پر موجود نجی معلومات تک رسائی ہو سکے۔

کمپنی نے عدالت میں یہ بھی کہا ہے کہ ’یہ محکمۂ انصاف اور ایف بی آئی کی جانب سے عدالتی مدد سے اس خطرناک طاقت کے حصول کی کوشش ہے جو انھیں امریکی عوام اور کانگریس نے نہیں دی ہے۔‘

ادھر جمعرات کو ایف بی آئی اے ڈائریکٹر جیمز کومے نے کہا ہے کہ حکومت اور ایپل کا تنازع ان کے لیے ’مشکل ترین‘ تنازع ہے۔

کانگریس کے سامنے بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ مشکل ترین سوال ہے جو میں نے اپنے دور میں دیکھا ہے اور اس کے جواب کے حصول کے لیے مذاکرات اور بات چیت کا عمل درکار ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption ایف بی آئی اے ڈائریکٹر جیمز کومے نے کہا ہے کہ حکومت اور ایپل کا تنازع ان کے دور کا مشکل ترین تنازع ہے

ایپل اور ملک کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے درمیان تنازع گذشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوا تھا جب ایف بی آئی کی جانب سے گذشتہ برس سان برنارڈینو میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملہ آور رضوان فاروق کےفون کو ’ان لاک‘ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

ایپل اس سلسلے میں جاری کیا جانے والا عدالتی حکم ماننے سے تاحال انکار کر رہا ہے۔

ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک نے بدھ کو امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایف بی آئی چاہتی ہے کہ ان کی کمپنی ’کینسر جیسا سافٹ ویئر بنا دے۔‘

اس سوال پر کیا انھیں فکر ہے کہ ایپل ایسی تحقیقات میں رکاوٹ بن رہا ہے جو مستقبل میں ہونے والے حملوں کی روک تھام میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، ٹم کا کہنا تھا کہ ’کچھ معاملات مشکل ہوتے ہیں اور کچھ درست اور کچھ یہ دونوں ہی ہوتے ہیں اور یہ ایسا ہی ایک معاملہ ہے۔‘

ایف بی آئی رضوان فاروق کے فون میں پہلے تو اس طرح کی تبدیلی چاہتی ہے جس سے تفتیش کار ڈیٹا مٹنے کے خطرے کے بغیر جتنی بار چاہیں پاس کوڈ کی آزمائشی کوشش کر سکیں۔

ایف بی آئی ’بروٹ فورس‘ نامی طریقہ استعمال کرنا چاہتی ہے جس کے تحت اس وقت تک پاس کوڈ کے ممکنہ مرکبات کا استعمال کیا جانا ہے جب تک فون کھل نہ جائے۔

خیال رہے کہ ستمبر 2014 کے بعد ایپل کی مصنوعات میں موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا خود بخود انکرپٹ ہوجاتا ہے۔

کسی بھی آئی فون میں محفوظ ڈیٹا تک رسائی خفیہ کوڈ سے حاصل کی جا سکتی ہے اور اگر دس مرتبہ غلط کوڈ کا اندراج کیا جائے تو سارا ڈیٹا خودبخود حذف ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں