موٹاپا یاداشت خراب کر دیتا ہے

ایک مطالعے کے مطابق موٹے لوگوں کی یاداشت ان کے پتلے دوستوں کے مقابلے میں خراب ہوتی ہے۔

’موٹاپا خواتین اور آنے والی نسل کے لیے سب سے بڑا خطرہ‘

کیا آپ بھی اپنے بچے کا موٹاپا چھپاتے ہیں؟

پچاس افراد پر کئی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وزن کی زیادتی کا شکار لوگوں میں ’چیزوں کو کسی تعلق کے حوالے سے یاد رکھنے‘ میں یا پھر ماضی کے واقعات کو صحیح طرح دہرانے میں دشواری ہوتی ہے۔

ایکسپیریمنٹل سائیکولوجی کے سہ ماہی جنرل میں چھپنے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اسی کمزور یاداشت کی وجہ سے ان موٹے افراد کو یہ خیال ہی نہیں رہتا کہ انھوں نے آخری بار کب کھانا کھایا تھا اور وہ مزید کھانا کھا کر خوراک کی زیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

لیکن یادداشت کے دیگر پہلوؤں جیسے معلومات عامہ وغیرہ پر کوئی اثر نہیں دیکھا گیا۔

اس سے قبل چوہوں پر کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ یادداشت کے امتحان میں موٹے تازے چوہوں کی کارکردگی دبلے چوہوں کے مقابلے میں قدرے خراب تھی لیکن انسانوں پر کیے گئے تجربات میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔

حالیہ تجربات میں چیزوں کو کسی تعلق کے حوالے سے یاد رکھنے پر غور کیا گیا جس میں لوگوں سے اپنے دماغ میں ویڈیو ٹیپ چلانے کو کہا گیا، جس کے بارے میں سوچنے سے ان کو کافی کی مہک آتی ہے یا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔

اس تجربے میں 18 (صحت مند) سے 51 ( انتہائی موٹے ) بی ایم آئی رکھنے والے 50 افراد نے حصہ لیا، جس میں ان کو کمپیوٹر اسکرین پر چیزوں کو مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر ’چھپانے‘ کو کہا گیا۔

بعد میں ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے کون سے چیز کس وقت اور کہاں چھپائی تھی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ موٹے لوگوں نے دبلے لوگوں کے مقابلے میں 15 فیصد کم نمبر حاصل کیے۔

کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹر لوسی چیک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم یہاں یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ زیادہ بی ایم آئی رکھنے والےافراد میں چیزوں کو واضح طور پر یاد رکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے دماغ میں کچھ نہیں ہوتایا پھر ان کو نسیان کا مرض ہوتا ہے۔‘

’لیکن اگر ان کو اپنے آخری کھانے کے بارے میں اتنا کچھ یاد نہیں تواس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ اپنے اگلے کھانے کی مقدار کو اعتدال میں رکھنے پر توجہ دیں گے۔‘

بھوک کے ہارمونز ہماری غذا کی مقدار کے تعین میں بہت بڑا کرداد اد اکرتے ہیں لیکن اس بات کو بھی تسلیم کیا جاچکا ہے کہ ہمارا دماغ بھی اس میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ لوگ جو ٹی وی دیکھتے ہوئے ڈنر کرتے ہیں زیادہ ھ کھانا کھاجاتے ہیں اور ان کو جلد ہی دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے۔

اور جن لوگوں کو بھولنے یا نسیان کی بیماری ہوتی ہے، وہ تھوڑے تھوڑے وقفے بعد کھانا کھاتے رہتے ہیں۔

داکٹر چیک کہتی ہیں کہ ’ابھی اس تحقیق کے بارے میں کسی قسم کی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے لیکن ہم نے غور کرنا شروع کردیا ہے کہ موٹاپے کے قائم رہنے کی وجوہات کیا ہیں۔‘

’اپنی غذا پر توجہ دینے کا پیغام کوئی نیا نہیں ہے، لیکن اگر آپ وزن کی زیادتی کا شکار ہیں تو ایساکرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے انھیں ’امید ہے کہ اس کام کو جاری رکھتے ہوئے ہم لوگوں کی مدد کا کوئی راستہ نکال لیں گے۔‘

اسی بارے میں