گوگل کی خودکار گاڑی کی بس سے ٹکر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

گوگل کی خودکار گاڑی کے تین ہفتے قبل امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک بس سے تصادم کا انکشاف ہوا ہے تاہم اس حادثے میں کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔

یہ حادثہ کیلی فورنیا کے شہر ماؤنٹین ویو میں گوگل کے ہیڈکوارٹر کے نزدیک پیش آیا تھا۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب گوگل کی معروف خودکار گاڑیاں کسی حادثے میں ملوث پائی گئی ہوں تاہم پہلی بار ایسی کسی گاڑی کے باعث حادثہ رونما ہوا ہے۔

گوگل اور کیلیفورنیا کے موٹر وہیکل ڈیپارٹمنٹ کے درمیان ہونے والی متوقع ملاقات میں اس حادثے پر گفتگو کی جائے گی اور یہ طے کیا جائے گا کہ اس حادثے کا قصوروار کون ہے۔

رواں سال 14 فروری کو گوگل کی خود کار گاڑی تین کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں تھی جب وہ ایک بس کے سامنے آگئی جو اس وقت 24 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جارہی تھی۔

گوگل کی گاڑی میں سوار شخص کا کہنا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ بس اپنی رفتار آہستہ کرلے گی اور گاڑی کو آگے جانے دے گی اور اس ہی لیے انھوں نے ڈرائیونگ کا کنٹرول کمپیوٹر سے نہیں لیا تھا۔

گوگل کی جانب سےجاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’واضح طور پر کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے، کیونکہ اگر ہماری گاڑی حرکت نہ کرتی تو کوئی ٹکر نہ ہوتی۔

’اس کے ساتھ، ہمارے ٹیسٹ ڈرائیور کا خیال تھا کہ بس اپنی رفتار آہستہ کرلے گی یا پھر رک جائے گی تاکہ گاڑی ٹریفک کی روانی کا حصہ بن سکے اور ایسا کرنے کے لیے درکار جگہ میسر ہوگی۔‘

گوگل کی خودکار گاڑیاں امریکہ کی مختلف ریاستوں میں دس لاکھ میل سے زائد فاصلہ طے کرچکی ہیں اور اب تک صرف ’گاڑی کا بمپر ٹکرا جانے‘ جیسے چھوٹے حادثات ہی پیش آئے تھے۔

ان تمام حادثات میں سڑک پر رواں دیگر لوگ قصوروار پائے گئے تھے۔

گوگل کی جانب سے ان کی خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کی تفصیلات پر مبنی ماہانہ رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔

رواں ہفتے منگل کے روز شائع ہونے والی گوگل کی رپورٹ سے قبل ڈی ایم وی کی جانب سے ٹریفک حادثے کے بارے میں معلومات جاری کی گئی ہیں۔

ڈی ایم وی کی رپورٹ کے مطابق ’گوگل کی اے وی (خودکار گاڑی) کے ٹیسٹ ڈرائیور نے اپنے بائیں ہاتھ کے آئینے میں پیچھے سے آنے والی بس کو دیکھا تھا۔ تاہم ان کا خیال تھا کہ بس اپنی رفتار آہستہ کر لے گی یا رک جائے گی اور گوگل کی اے وی کو اپنا سفر جاری رکھنے کا موقع دے گی۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سڑک پر موجور ریت کی بوریوں کے باعث گاڑی کی نقل وحرکت اتنی آسان نہیں تھی۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی خودکار گاڑیوں میں مزید موزوں ترامیم کرلی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

گوگل کاکہنا ہے ’آئندہ ہماری گاڑیاں اس بات کو زیادہ گہرائی سے سمجھیں گی کہ بسیں (یا دیگر بڑی گاڑیاں) ممکنہ طور پر دوسری گاڑیوں کی طرح راستہ نہیں دیں گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مستقبل میں اس طرح کی صورت حال میں زیادہ بہتر طریقے سے نمٹیں گی۔‘

اگر ڈی ایم وی کی جانب سے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ گوگل کی گاڑی اس حادثے کی قصوروار ہے تو اس کے کمپنی کے خودکار گاڑیوں سے متعلق آئندہ کے اہم منصوبوں پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔

امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے گوگل کو حال ہیں میں یہ مطلع کیا گیا تھا کہ وہ خودکار گاڑی کے ساتھ اس ہی قانونی طریقہ کار کے تحت نمٹنے پر غور کر ہے ہیں جس کے تحت انسانی ڈرائیور سے نمٹا جاتا ہے۔

تازہ حادثہ اس اہم پیش رفت کے محض چار دن بعد یہ پیش آیا تھا۔

اس فیصلے کی صورت میں خودکار گاڑیوں کے لیے بغیر کسی معمول کے کنٹرول مثلاً سٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز کے بغیر چلانے کے لیے راہ ہموار ہوجائے گی۔

اسی بارے میں