340 دن خلا میں رہنے کے بعد کیلی اور کورنینکو زمین پر واپس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دونوں خلابازوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) میں 340 دن گزارے

امریکی خلا باز سکاٹ کیلی اور روسی خلاباز میخائیل کورنینکو تقریباً ایک سال خلا میں گزارنے کے بعد زمین پر واپس پہنچ گئے ہیں۔

دونوں خلابازوں کا بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) میں 340 دنوں پر محیط قیام معمول کی مدت سے دگنا تھا۔

ان کا توسیعی دورہ طویل خلائی سفر کے جسم پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

تاہم اس بابت سائنسداں زیادہ گہرائی سے تحقیق سکاٹ کیلی کے زمین پر رہ جانے والے جڑواں بھائی مارک سے ان کا تقابلی تجزیہ کرنے کے بعد کرپائیں گے۔

سویز کیپسول، کیلی، کورنینکو، اور روسی عملے کے رکن سرگے وُولکو کو لے کر قزاقستان میں وہاں کے مقامی وقت کے مطابق 04:26 بجے صبح پیراشوٹ کے ذریعے اترا ہے۔

یہ مشن بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے ایک ریکارڈ تھا جس میں چار پروازوں کے بعد خلا میں کیلی کے قیام کی مدت مجموعی طور پر 520 دن ہوجاتی ہے۔

کمانڈر کیلی خلا سے اپنے ساتھ سلاد کے لیے استعمال ہونے والی پالک کی قسم ’راکٹ‘ کے بیج بھی واپس لائے ہیں جو کہ گذشتہ سال دسمبر میں برطانوی خلاباز ٹم پیک اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ راکٹ کے یہ بیج سکولوں میں تقسیم کیے جائیں گے تاکہ طالب علم ان کا زمین پر اگائے گئے راکٹ کے پودوں سے تقابل کرسکیں۔

اس جڑواں تحقیق کا مقصد ایک سال کے دورانیے میں جینیاتی طور پر جڑواں افراد میں مختلف ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینا اور ان پر اثرانداز ہونے والے بیرونی عوامل کا عمل دخل کم کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کمانڈر کیلی کا کہنا ہے کہ انھیں کئی اقسام کی جسمانی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے

خلا کے سخت ماحول کے باعث خلا بازوں کو جسم کے پٹھوں کا کمزورہونا، نیند پوری نہ ہونا، ہڈیوں کی کمزوری، بینائی کمزور ہونا اور تابکاری اثرات کی زد میں ہونا جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ سب سے زیادہ گہرے اثرات دماغی صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔

زمین پر واپسی سے قبل کمانڈر کیلی نے اپ لنک کے ذریعے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’جسمانی طور پر میں خود کو بالکل صحت مند محسوس کرتا ہوں۔ لیکن جو سب سے مشکل ہوتا ہے وہ زمین پر موجود اپنے پیاروں سے دور ہونے اور اکیلے پن کا احساس ہے۔ یہاں دوری بڑھ گئی ہے۔‘

کیلی قزاقستان سے امریکہ شہر ہیوسٹن پہنچیں گے جہاں امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنسدان سائنٹفک چیک اپ کے سلسلے کا آغاز کریں گے۔

سکاٹ کے جڑواں بھائی مارک کیلی خود بھی ریٹائرڈ خلا باز ہیں اور ان کے بھائی کے آئی ایس ایس پہ عارضی قیام کے دوران زمین پر ان کے بھی کئی ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

جڑواں بھائیوں پر ہونے والی تقابلی تحقیق کے ذریعے سائنسدانوں کو مدار میں طویل عرصے قیام کے دوران بتدریج پیش آنے والی جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیوں کو سمجھنےمیں مدد ملے گی۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے سامنے آنے والی معلومات کی روشنی میں ایک دن مریخ پر انسانوں کو بھیجنے میں کامیابی ممکن ہوسکے گی۔

خلا کے بے وزن ماحول میں طویل وقت گزار کے واپس آنے کے بعد کئی خلا بازوں کو زمین پر بغیر کسی مدد کے چلنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

زمین پر واپسی کے فوری بعد کیلی، کورنینکو، اور وُولکو کو ایک طبی کیمپ میں اپنا توازن برقرار رکھنے، باہمی ربط، اور چلنے کی مشق کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔

Image caption کیلی اور کورنینکو نے خلا سے بہت پرکشش تصاویر بھیجی ہیں

آئی ایس ایس سے واپس آنے والے عملے کے پاس فوری طبی امداد کی سہولت میسر ہے تاہم مستقبل میں مریخ پر پہنچنے والے عملے کے پاس سرخ سیارے پر پہنچنے کے بعد جسمانی نقل وحرکت معمول پر لانے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہوگا۔ سائنسدان ایسا طریقہ وضع کرنے کی کوشش کرہے ہیں جس کے زریعے زخمی ہونے سے بچا جاسکے اور صحتیابی کا عمل تیز کیا جاسکے۔

کمانڈر کیلی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں کئی اقسام کی جسمانی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ٹیسٹ کے دوران آپ کو بھاگنا ہوتا ہے، بیٹھی ہوئی حالت سے کھڑے ہونا اور چھلانگ لگانا ہوتا ہے۔‘

طویل خلائی مشن کے باوجود کیلی اور کورنینکو اب بھی خلا میں طویل ترین قیام کے ریکارڈ سے دور ہیں۔ یہ ریکارڈ 90 کی دہائی میں روسی خلاباز ولیری پولیکوف نے خلا میں مسلسل 437 دن قیام کرکے قائم کیا تھا۔

رواں ہفتے پیر کے روز سکاٹ کیلی نے خلائی سٹیشن کی کمانڈ اپنے امریکی ساتھی ٹموتھی کوپرا کے حوالے کردی تھی۔ ٹموتھی کوپرا کے ہمراہ خلا میں ٹم پیک اور روسی خلا باز یوری ملاشنکو موجود ہیں۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر جانے والے اگلے مشن میں امریکی خلاباز جیفری ولیمز، روسی خلاباز الیکسی آفچینین، اور آلف کری پوشکا شامل ہیں۔ یہ مشن رواں سال 18 مارچ کو قزاقستان میں بائیکانور سے روانہ ہوگا۔

اسی بارے میں