اگر ڈرون مسافر طیارے سے ٹکرائے تو کیا ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کا خیال ہے کہ کسی طیارے کے ڈرون سے ٹکرانے کا کچھ بھی نتیجہ ہو سکتا ہے

برطانیہ کے بہت سے پائلٹ چاہتے ہیں کہ اس بارے میں تحقیق کی جائے کہ اگر کوئی ڈرون کسی مسافر طیارے سے ٹکرا جاتا ہے تو کیا ہوگا۔

یہ مطالبہ برطانیہ کی فضائی حدود میں گذشتہ چھ مہینوں کے دوران تقریبا 23 ایسے واقعات کے بعد کیا گیا ہے جن میں طیارے اور ڈرون کی ٹکر ہوتے ہوتے رہ گئی۔

برطانیہ کے ايئر پروکس بورڈ سے موصول ہونے والی اطلاعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بال بال بچنے کے یہ واقعات گذشتہ سال سنہ 2015 میں 11 اپریل سے چار اکتوبر کے درمیان پیش آئے۔

ایک واقعے میں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے پاس ایک بوئنگ 777 طیارے کے تقریبا 25 میٹر کے فاصلے سے ایک ڈرون گزرا تھا۔

پائلٹوں کی یونین بیلپا کی خواہش ہے کہ حکومت اور حفاظتی ضابطے بنانے والے ادارے اس بات کی تحقیق کروائیں کہ اگر طیارے اور ڈرون کی ٹکر ہو جاتی ہے تو اس کا نتیجہ کتنا سنگین ہو سکتا ہے۔

ہیتھرو کے پاس ہونے والے واقعے کو ان 12 واقعات میں رکھا گیا ہے جن کی درجہ بندی ’اے‘ کی گئی ہے کیونکہ ان میں ٹکر کا شدید اندیشہ تھا۔

13 ستمبر کو لندن سٹی ایئرپورٹ کی جانب آنے والے طیارے کے 20 میٹر قریب سے ایک ڈرون گزرا تھا۔

اسی دن بوئنگ 737 طیارہ ایسیکس کے سٹینسٹیڈ ایئرپورٹ سے پرواز کے فورا بعد ڈرون سے ٹکرانے سے بچا تھا۔

Image caption ہیتھرو کے پاس بھی کئی بار ٹکر ہوتے ہوتے رہ گئی ہے

شہری ہوا بازی کے محکمے کے ضابطہ کاروں کا کہنا ہے کہ بغیر انسان کے پرواز کرنے والی چیزیں کسی طیارے سے 50 میٹر کی دوری رکھیں۔

بیلپا کا کہنا ہے کہ محکمۂ ٹرانسپورٹ اور سی اے اے اس بات کی تحقیق کرنے کے لیے فنڈ دیں کہ اگر کسی مسافر بردار طیارے سے کسی ڈرون کی ٹکر ہو جاتی ہے تو اس کا انجام کیا ہوگا۔

رائل ایئرفورس کے سابق فوجی اور برٹش ایئرویز کے پائلٹ سٹیو لینڈلس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کوئی ڈرون طیارے سے ٹکراتا ہے تو اس سے انجن ناکام ہو سکتا ہے یا کاک پٹ کی ونڈ سکرین ٹوٹ سکتی ہے جس کے نتیجے میں طیارے کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔

بیلپا کے فلائٹ سیفٹی ماہر مسٹر لینڈلس کا کہنا ہے کہ کسی طیارے سے پرندوں کے ٹکرانے کے بہت اعدادوشمار ہیں لیکن ڈرون پر علیحدہ تحقیق ہونی چاہیے کیونکہ پرندوں کے برخلاف ان میں لیتھیم کی بڑی بیٹری ہوتی ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف میکینیکل انجینیئرس کی فلپّا اولڈھم کا کہنا ہے کہ طیارے اور ڈرون کی ٹکر کے نتائج کا انحصار کئی چیزوں پر ہوگا مثلا ڈرون کی سائز اور رفتا اور ٹکرانے کی جگہ بھی اس میں اہمیت کی حامل ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتاہے یعنی کہ طیارے کو کوئی نقصان نہ پہنچنے سے لے کر انجن کی تباہی تک۔‘

سی اے اے کا کہنا ہے کہ جو لوگ طیاروں کے پاس ڈرون اڑاتے ہیں انھیں طیارے کے تحفظ کو خطرات میں ڈالنے کے لیے زیاد سے زیادہ پانچ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں