خوشی کے لمحات سے ’دل کو نقصان‘

تصویر کے کاپی رائٹ ThinkStock
Image caption ممکن ہے کہ خوشی اور غم دونوں موقعوں پر پیدا ہونے والے جذبات ایک ہی کیفیت کو جنم دیتے ہیں: ڈاکٹر جیلینا غادری

سوئٹزرلینڈ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اعصابی تناؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والے سینے کے درد اور سانس پھولنے جیسی علامات خوشی کے لمحات، غصے کی کیفیت اور صدمے اور خوف کی صورت میں بھی رونما ہوسکتی ہیں۔

ٹاکوٹسوبو کارڈیومیو پیتھی نامی سینڈروم پر کی جانے والی اس تحقیق میں شامل 1750 مریضوں میں سے تین چوتھائی کے دل کے بائیں حصے کی شکل میں تبدیلی کی وجہ ذہنی دباؤ ہی تھا، جو کہ مریض کی موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یورپین ہارٹ جنرل میں چھپنے والی یہ تحقیق یونیورسٹی ہاسپٹل زیورخ میں کی گئی جس کے مطابق مریضوں میں خوشی کی وجہ سے مندرجہ بالا کیفیات کے پیدا ہونے کا تناسب 20 میں سے ایک تھا۔

لیکن یہ کیفیت وقتی تھی اور زیادہ تر مریض کچھ ہی دیر بعد بہتر ہوگئے۔

تحقیق میں خوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی دل کی تکالیف کی جو وجوہات بیان کی گئی ہیں، ان میں سالگرہ کی تقریب، بیٹے کی شادی، کسی دوست سے 50 سال بعد ملنا، دادا، دادی، نانا یا نانی بننا، پسندیدہ رگبی ٹیم کا جیتنا، جوئے میں شرط جیتنا، اور سی ٹی سکین میں کسی بیماری سے کلیئر آنا شامل ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خواتین مریضوں کی زیادہ تر تعداد مینو پاز کے عمل سے گزر چکی تھی۔

تحقیق میں شامل ڈاکٹر جیلینا غادری کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس تحقیق میں یہ بات بتادی ہے کہ ٹاکوٹسوبو سینڈروم کی وجوہات ایک نہیں بلکہ مختلف ہوسکتی ہیں۔

’اب ضروری نہیں کہ ٹاکوٹسوبو سینڈروم کا مریض ایک دکھی دل ہو، بلکہ اس مرض کی علامات مثبت اور خوشی کے جذبات میں بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔‘

مزید تحقیق کی ضرورت

ان کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے کہ خوشی اور غم دونوں موقعوں پر پیدا ہونے والے جذبات ایک ہی کیفیت کو جنم دیتے ہیں جس کی وجہ سے مریض کی یہ حالت ہوجاتی ہے۔‘

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے میڈیکل ڈائریکٹر پرفیسر پیٹر ویسبرگ کا کہنا ہے کہ ’ٹاکوٹسوبو سینڈروم لوگوں میں شازو نادر ہی پایا جاتا ہے۔‘

تحقیق کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے بہت کم کیسز ہیں جن میں خوشی کی وجہ سے دل کی تکلیف کی علامات پیدا ہوتی ہیں اور یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کچھ کمزور لوگ جذباتی لمحات میں بھی وقتی طور پر دل کی تکلیف میں کیوں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

اسی بارے میں