سب سے زیادہ فاصلے پر موجود کہکشاں کا مشاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ NASAESAP.OESCH YALE UNIVERSITY
Image caption یہ اتنے فاصلے پر ہے کہ اس کی روشنی ستاروں کے مجموعے کی روشنی کو بھی انتہائی کم کردیتی ہے

ہبل نامی خلائی دوربین اب تک سب سے زیادہ فاصلے پر موجود ایک کہکشاں کی مشاہدہ کرچکی ہے۔

یہ اتنے فاصلے پر ہے کہ اس کی روشنی ستاروں کے مجموعے کی روشنی کو بھی انتہائی کم کردیتی ہے۔ جی این زیڈ 11 کے نام سے منظم اس کہکشاں کی روشنی ہم تک پہنچنے میں تقریباً ساڑھے 13 ارب سال کا عرصہ صرف ہوا ہے۔

ہبل اس کہکشاں کو بگ بینگ (ابتدائی ادوار سے متعلق کائنات کے لیے مروجہ کائناتی ماڈل) سے صرف 400 لاکھ سالوں بعد کی کہکشاں کے طور پر دیکھتا ہے۔

ماہرینِ فُلکیات کا کہنا ہے کہ وہ اس پیمائش کے متعلق پُراعتماد ہیں کیوں کہ وہ اس قابل ہیں کہ الگ الگ ماپ سکیں اور اس شے کی روشنی کا تجزیہ کرسکیں۔

اس طرح کے طیف بینی اندازے بہت زیادہ دور دراز جگہوں پر موجود چیزوں کے لیے لگانا مشکل ہیں۔ لیکن اگر یہ ممکن ہوسکے تو یہ بہت زیادہ قابلِ اعتماد فاصلوں کا تخمینہ ہوتا ہے۔ اس دریافت کے متعلق تفصیلات جلد ہی آسٹروفزیکل نامی جرنل کے ایک ایڈیشن میں شائع کی جائیں گی۔

امریکی یونیورسٹی ییل کے ماہرِ فُلکیات پاسکل اوش جو اس تحقیق کے اہم مصنف بھی ہیں اُن کے مطابق ’یہ واقعتاً کائناتی تاریخ میں کہکشاؤں کی تلاش میں ہبل نامی خلائی دوربین کی اونچائی کو ظاہر کرتا ہے۔‘

’ہبل نے ایک بار پھر خود کو ثابت کردیا ہے یہاں تک کہ تقریباً 26 سال کا عرصہ خلا میں گزارنے کے بعد ہبل نے بتادیا ہے کہ وہ کتنی خاص ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption ہبل کی جانشین دوربین ’جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ ہے جو اس وقت تیار کی جارہی ہے

انھوں نے بی بی سی نیوز کو مزید بتایا کہ ’جب دوربین کی ابتدا ہوئی تھی اس وقت ہم کائناتی تاریخ میں کہکشاؤں کے متعلق کچھ حد تک تحقیق کررہے تھے لیکن اب ہم اُس سے 97 فی صد زیادہ آگے جارہے ہیں۔ یہ واقعتاً ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔‘

بہرحال سائنسدانوں کو یقین ہے کہ وہ ان حدود تک پہنچ چکے ہیں جو تجربہ کار رسدگاہ (جہاں سے اجرام فلکی کا مشاہدہ کیا جاسکے) تکنیکی طور پر حاصل کرسکتی ہے۔ اور امکان ہے کہ یہ ہبل کے جانشین کو خلا میں مزید گہرائی تک جانے میں مدد دے گا۔ ہبل کی جانشین دوربین ’جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ ہے جو اس وقت تیار کی جارہی ہے اور سنہ 2018 میں اسے شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

اس کے آلات برقی مقناطیسی سپیکٹرم (قوس و قزح) کے دائرہ کار میں مخصوص انفر اریڈ (زیریں سُرخ) میں تبدیل ہوجائیں گے جہاں بالکل آغاز کے ستارے جن کی روشنی سے کائنات جگمگاتی ہے اُس روشنی تک اب بھی رسائی ہونی چاہیے۔

ممکنہ طور پر جی این زیڈ 11 سے دُور مزید 200 لاکھ روشنی والے سال موجود ہیں۔

سائنسدان ان ابتدائی ستاروں اور جن حالات میں یہ پیدا ہوئے اُن کے متعلق تحقیق کے بہت زیادہ خواہاں ہیں۔

اسی بارے میں